ہم مقننہ نہیں، قانون سازی نہیں کرسکتے: چیف جسٹس پاکستان

37

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے ہم مقننہ نہیں اور قانون سازی نہیں کرسکتے جب کہ جسے قوانین میں ترمیم کرنی ہے وہ اس پرتوجہ دے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں عدالتی نظام میں اصلاحات سے متعلق اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جتنے بھی زیر التوا کیسز ہیں ان کا بخوبی انداز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کوشش کی جاسکتی ہے کہ اسی قانونی دائرے اور ان ہی ججز کی تعداد کی ساتھ ہر جگہ قانون کے مطابق جلد کام کریں۔

انصاف میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، چیف جسٹس پاکستان

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انصاف میں تاخیر ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، لوگوں کو ملک میں سستا انصاف ملنا چاہیے، لوگوں کو شکایت ہےکہ جلد انصاف نہیں ملتا جب کہ دنیا بھر میں شکایات رہتی ہیں کہ مقدمات میں تاخیر ہوتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مجھے سب سے اچھا کام پنجاب میں نظر آیا ہے، وہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کوبروئے کار لایا گیا ہے، پنجاب میں ماڈل کورٹس بنائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مقننہ نہیں، ہم قانون سازی نہیں کرسکتے، قانون سازی اور اصلاحات قانون سازوں کا کام ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدالت میں جانے کے ڈر سے بہت سے لوگ مسئلہ خود حل کرتے ہیں لیکن یہاں معاملہ عدالت لے جانے پر لوگ خوش ہوتے ہیں کہ عدالت میں دیکھ لوں گا۔

مقدمات تیزی سے نمٹانے کا براہ راست فائدہ سائلین کو ہوگا، جسٹس ثاقب نثار

معزز چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیس جب سپریم کورٹ میں آتا ہے توپتا چلتا ہے وہ بے گناہ ہیں، جیل میں ایک سال گزارنا بھی مشکل ہے، جنہوں نے کئی سال جیلوں میں گزارے ان کا کیا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد عدالتی اصلاحات کی مہم کو تیز کرنا ہے، مقدمات تیزی سے نمٹانے کا براہ راست فائدہ سائلین کو ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہے کہ کتنے کیسز زیر التوا ہیں، کیا ایک جج کے لیے ممکن ہےکہ اتنے قلیل وقت میں کیس کا فیصلہ سناسکے؟ ٹرائل کے لیے ججز کے پاس 150 سے 145 کیسز زیرسماعت ہیں، 2 منٹ سے زائد وقت ایک کیس میں لگتا ہے، کیا ایک جج صاحب کے پاس اتنا وقت ہے؟

کیس میں تاخیر کا الزام آخر کار عدلیہ پرہی آتا ہے، چیف جسٹس

ان کا کہنا تھا کہ کیس میں تاخیر کا الزام آخر کار عدلیہ پرہی آتا ہے، جج ان مقدمات کو نمٹا نہیں سکا تو کیا قصور وار ہے، کیا ڈسٹرکٹ اورسول جج کام نہیں کررہے؟

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جمہوریت میں اہم ہے ہم کسی کام میں دخل اندازی نہ کریں، کیا قوانین کوپارلیمنٹ سے اپڈیٹ کیا گیا ہے؟ کسی کومورد الزام نہیں ٹھہرارہا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟ پنجاب کے علاوہ پاکستان میں کہیں بھی معیاری فرانزک لیب نظرنہیں آئی، کروڑوں روپے کی پراپرٹی زبانی طور پر ٹرانسفر کردی جاتی ہے۔

جج کو اپنی منشا کے مطابق فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں، جسٹس ثاقب نثار

جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جج قانون کے مطابق فیصلہ کریں، انہیں اپنی منشا کے مطابق فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مقدمات کئی سال تک چلتے ہیں، جس کوقوانین میں ترمیم کرنی ہے وہ اس پرتوجہ دے جب کہ تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان درخواست کرتا ہوں کہ اپنی جوڈیشل اکیڈمیز کو جدید ڈیٹ کریں، ججز کی ٹریننگ تعلیم کو مثبت اور بہتر بنایا جائے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ فیصلوں پر تنقید رائج عالمی معیارات کے مطابق ہونی چاہیے،  بش الگور کیس کے فیصلے کو امریکی عدالتی تاریخ کا بدترین فیصلہ کہا جاتا ہے مگر کیس ہارنے والے رچرڈ الگور نے صرف یہ کہا کہ یہ برا فیصلہ ہے مگر کیوں کہ امریکی سپریم کورٹ نے دیا ہے اس لیے کچھ نہیں کہوں گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.