ایگزیکٹ سکینڈل: معاملہ ملکی وقار کا ہے، مقدمے کی تحقیقات کمزور ہیں:سپریم کورٹ

33

اسلام آباد:  سپریم کورٹ میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کی سماعت، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا معاملہ ملکی وقار کا ہے، پاکستان کا وقار داؤ پرہے، اس مقدمے میں تحقیقات کمزور ہیں، قانون کے مطابق معاملات کو ڈیل کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا اسلام آباد ہائیکورٹ 3 ہفتوں اور سندھ ہائیکورٹ ایک ماہ میں مقدمات کا فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینج ایگزیکٹ جعلی ڈگری ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ رجسٹرار پشاور ہائی کورٹ کے پیش نہ یونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کیا ایگزیکٹ ایک کمپنی ہے؟ کب سے ایگزیکٹ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا جولائی 2006 سے پہلے یہ کمپنی رجسٹرڈ ہے، ایگزیکٹ کا ہیڈ آفس کراچی خیابان اقبال میں ہے۔ جسٹس اعجازاالاحسن نے استفسار کیا ایگزیکٹ کا کاروبار کیاہے؟ جس پر بشیر میمن نے جواب دیا سافٹ وئیر کی ایکسپورٹ کا بزنس ظاہر کیا گیا ہے، ایگزیکٹ کے 10 بزنس یونٹ ہیں، 70 فیصد ریونیو آن لائن یونیورسٹیوں سے آتا ہے، ایگزیکٹ کی 330 یونیورسٹیاں تھی، تجربہ کی بنیاد پر ایگزیکٹ والی ڈگری مل جاتی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا انگلش میری اتنی اچھی نہیں ہے، ان کا قانون کا تجربہ ہے کیا انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے؟ ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا تجربے کی بنیاد پرآپکو قانون اورانگلش میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے۔ پی بی اے کی جانب سے عاصمہ جہانگیر بطور وکیل پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا پی بی اے کا اس کارروائی سے کیا مفاد وابستہ ہے؟ صحافیوں کی تنظیم کا کارروائی سے کیا تعلق ہے؟۔


پی بی اے کا چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کا خیرمقدم


پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے ایگزیکٹ اور بول کالا دھن استعمال کر رہے ہیں، ایف آئی اے کا حقائق چھپانا اسی کی مثال ہے۔ پی بی اے نے کہا جرائم پیشہ عناصر کو میڈیا میں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، چیف جسٹس ایگزیکٹ، بول سے متعلق کیس کی نگرانی کریں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.