شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس

42

 لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے صاف پانی کیس کی سماعت میں ریمارکس دیے کہ اگلے الیکشن آزاد اور منصفانہ ہوں گے جن میں مسلم لیگ (ن) جیتی تو شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کیس کی سماعت ہوئی جس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پیش ہوئے۔ عدالتی معاون نے دریائے راوی میں گندہ پانی ڈالنے کی رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دریاؤں میں گند ڈالا جا رہا ہے اور حکومت نے ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگائے، جو ہو گیا وہ ہو گیا آگے کیا کرنا ہے۔

وزیراعلی نے کہا کہ میں بھی انسان ہوں، غلطی کر سکتا ہوں، صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے پوری کوشش کر رہا ہوں، آزاد عدلیہ کا وجود انتہائی ضروری ہے، ہم نے آزاد عدلیہ کی تحریک چلائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خواہش ہے کہ یہی سوچ آپ کی پارٹی کی سطح پر بھی نظر آئے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اسپتالوں سے نکلنے والے فضلے پر بڑا کام کیا، ہمارا سسٹم بہت اچھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دو دن ان مقدمات کی سماعت کی لیکن ماحولیات اور صحت کے معاملے پر ہم مطمئن نہیں ہیں، ویسٹ دس سال سے پانی میں جا رہا ہے، اسپتالوں کی ایمرجنسی کو بھی ٹھیک کرنا ہے۔ وزیراعلی شہبازشریف نے کہا کہ تین ہفتے دیں ہم پلان کے ساتھ آئیں گے۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلی پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا میں ٹھیک کر رہا ہوں؟۔ وزیر اعلی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور بولے جی آپ ٹھیک کر رہے ہیں، اگر میں کچھ بولا تو حکم عدولی ہو جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ حکم عدولی نہیں کر سکتے، آپ ایک لیڈر ہیں، میں جانتا ہوں آپ اگلے مورچوں پر لڑنے والے ہیں، ایک آپ ہی تو ہیں جو عدالت کا احترام کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں ہیں، شفاف الیکشن کروائیں گے، آزاد اور منصافانہ انتخاب میں آپ کی پارٹی جیتی تو ہم آپ کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف نے ہنستے ہوئے جواب دیا یہ تو آپ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اس پر کمرہ عدالت میں لوگوں نے قہقہے لگائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم تو نہیں لیکن آپ کی جماعت میں سے کوئی آپ کے پیچھے نہ پڑ جائے۔

چیف جسٹس نے بطور وزیراعلیٰ شہباز شریف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالت میں خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کی آمد پر مشکور ہیں، میاں صاحب عوامی شخصیت بنیں اور عوام میں آئیں، پولیس اہلکاروں نے کیوں آپ کو ڈرا کر رکھا ہے، ہم جانتے ہیں آپ ہماری بہت عزت کرتے ہیں، ایک آپ ہی تو ہیں جو اکیلے عدلیہ کی عزت کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تین دفعہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ نے صاف شفاف الیکشن کروانے ہیں، تعلیم اور صحت کے مسائل میں سپریم کورٹ آپ کی معاونت کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے درجنوں ترقیاتی منصوبوں سمیت کول پاور پلانٹ لگائے ہیں، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کیا کول پاور پلانٹ کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات کر رہے ہیں، ہر پروجیکٹ پر اربوں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں، ہم اس بات کو بھی مد نظر رکھتے ہیں کہ کم لاگت میں اس کو کیسے پورا کریں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے صوبائی وزیر رانا مشہود کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے کان میں سرگوشی کرنے پر سرزنش بھی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی کی موجودگی میں جو وزرا پھرتیاں دکھائیں مجھے اچھے نہیں لگتے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران گندہ پانی دریائے راوی میں پھینکنے کے انکشاف پر وزیراعلی پنجاب کو وضاحت کے لیے طلب کیا تھا کہ گندے پانی کی نکاسی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.