معرو ف سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

19

لاہور: معروف سماجی کارکن اور سینئر وکیل عاصمہ جہانگیر عارضہ قلب کا شکار ہو کر انتقال کرگئیں۔

عاصمہ جہانگیر کے اہلخانہ کے مطابق انہیں آج صبح دل کا دررہ پڑنے پر نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکیں اور خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

عاصمہ جہانگیر کے بیٹے نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ان کی والدہ کی نمازِ جناہ کے حوالے سے جلد آگاہ کیا جائے گا۔

معروف سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر 9 فروری 2018 کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں عدالت عظمیٰ میں پیش ہوکر دلائل دیے تھے۔

صدرِ مملکت ممنون حسین نے قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مرحومہ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا اور انہیں عدالتی نظام میں ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی اچانک وفات سے بہت صدمہ پہنچا۔

سابق صدر آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال ناقابلِ تلافی نقصان ہے، وہ ایک فرد نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے موثر آواز تھیں۔

سینئر اینکر پرسن مبشرزیدی نے کہا کہ ‘عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ آئین اور قانون کی سربلندی کی بات کی اور ڈٹ کر ہر دور میں آمریت اور غیر جمہوری قوتوں کا بے خوف ہو کر مقابلہ کیا اور بلوچستان کا مسئلہ ہو یا لاپتہ افراد کا معاملہ مرحومہ نے ہمیشہ حق کی بات کی۔

سنیئر وکیل خالد رنجھا نے عاصمہ جہانگیر کو اپنی ذات میں انجمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی حامل تھیں اور انہوں نے خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے ہر گھٹن زدہ ماحول میں حق کا ساتھ دیا۔

خالد رنجھا کا مزید کہنا تھا کہ بطور صدر سپریم کورٹ بار انہوں نے نہایت بے باکی اور ہمت کے ساتھ ہر معاملے پر اپنا موقف اختیار کیا جس میں معمولی سا جھکاؤ بھی نظر نہیں آتا تھا۔

سینئر تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے دیگر بڑے کارناموں میں ایک بڑا کارنامہ جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں اپنے والد کو جیل سے رہا کروانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماہر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے قید وبند کی اذیتیں بھی برداشت کیں اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں بھی جمہوریت اور مساوات کا جھنڈا بلند رکھا۔

واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر کو ان کی بے لوث خدامات کے عوض 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر کہا کہ ‘پاکستانی قوم ایک دلیر بیٹی اور ماں کے انتقال پر غمزدہ ہے’۔

انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا نام تاریخ کے سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا.

پی پی پی کے سینئر رہنما اور سندھ کے صوبائی نثارکھوڑو نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق خدمات قابل تعریف ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.