روسی وزیر خارجہ سے ملاقات فائدہ مند رہی: خواجہ آصف

29

ماسکو: پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ان کی روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات سود مند رہی جس میں اسلام آباد اور ماسکو نے افغان امور سمیت مختلف معاملات میں اتفاقِ رائے کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ان کی اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات میں سازگار ماحول میں ہوئی جو نتیجہ خیز رہی۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت کو بہتر کرنے کی ضرورت سے متعلق امور اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف سے ملاقات میں پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ماسکو میں دونوں وزرائے خارجہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور انہیں مختلف شعبہ ہائے زندگی تک لے جانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے تجارت، توانائی، دفاع، تعلیم، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور عوام کے عوام سے روابط سمیت باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ افغان تنازع کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں جبکہ افغان حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان براہِ راست مفاہمت کے ذریعے ہی خطے میں دیرپا امن کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ ماسکو میں 20 فروری کو روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں افغانستان میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کی موجودگی اور بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ پر بہت تشویش ہے۔

ان کی جانب سے اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا تھا کہ روس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ دونوں ممالک عسکری تعاون کے لیے ایک کمیشن بنائیں گے جبکہ پاکستان اور روس مشترکہ دوستانہ فوجی مشق بھی جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستان، طالبان اور داعش کے درمیان کوئی فرق نہیں کر رہا جبکہ پاکستان کسی اور کی جنگ اپنی سرزمین سے نہیں لڑسکتا۔

بعد ازاں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کا دورہ روس کامیاب رہا جہاں پاکستان نے روس سمیت کسی بھی ملک پر سیاسی عزائم کے تحت پابندیوں کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں وزرا خارجہ کے درمیان مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اہم علاقائی و عالمی امور اور مشرق وسطی کی صورت حال بھی زیر غور آئی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.