وزیراعظم سے خورشید شاہ کی ملاقات، حکومت ایک دن پہلے تحلیل کرنے کی تجویز مسترد

12

 اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی ملاقات ہوئی جس میں نگراں حکومت پر مشاورت کی گئی جبکہ وزیراعظم نے حکومت ایک دن پہلے تحلیل کرنے کی تجویز بھی مسترد کردی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے وزیراعظم آفس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں نگراں وزیراعظم کیلئے سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی سمیت مختلف ناموں پر مشاورت کی گئی۔ وزیراعظم اور اپوزیشن رہنما کی ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس، قانون سازی سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

بعدازاں خورشید شاہ اور پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی ملاقات ہوئی جس میں نگراں وزیراعظم کے معاملے پر مشاورت ہوئی۔ اس موقع پر پی پی پی کے نوید قمر اور پی ٹی آئی کی شیریں مزاری بھی موجود تھیں۔ خورشید شاہ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو وزیراعظم سے ملاقات سے متعلق آگاہ کیا۔

وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن اور وزیراعظم نے تاحال نگراں وزیراعظم کے لئے کوئی نام تجویز نہیں کیا، دونوں نے مشاورت کے بعد نام دینے کا کہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ 15 مئی سے پہلے پہلے نگراں وزیراعظم کا نام فائنل کر لیں۔

خورشید شاہ نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے کہا کہ حکومت ایک دن پہلے تحلیل کر دی جائے، آئین کے مطابق ایک دن پہلے تحلیل کرنے سے 90 روز میں الیکشن ہوتے ہیں، لیکن اگر حکومت مدت پوری کرے تو 60 روز میں الیکشن کرانے ہوتے ہیں، لیکن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن لیڈر کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری روز بھی اجلاس ہو گا۔

خورشید شاہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم سے بجٹ پر بھی بات ہوئی ہے، ہم نے کہا ہے کہ بجٹ 4 ماہ کا ہونا چاہیے، موجوددہ حکومت کا پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا جواز نہیں بنتا، نئی آنے والی حکومت کو آ کر بجٹ دینا چاہیے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت کی مدت 31 مئی کو پوری ہوگی جس کے بعد نگراں حکومت اقتدار سنبھالے گی اور 60 روز میں عام انتخابات کرائے گی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.