ظالم ہیں، دشمن ہیں، غدار ہیں جنہوں نے پی آئی اے کو برباد کیا، چیف جسٹس

13

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ نے حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روکتے ہوئے قومی ادارے کی نجکاری سے قبل عدالت کو اعتماد میں لینے کا حکم جاری کیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے قومی ایئرلائنز کی نجکاری کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

عدالتِ عظمیٰ نے پی آئی اے کے نجکاری سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب بھی طلب کر لیا۔

سماعت کے دوران پی آئی اے کی جانب سے گزشتہ 9 برس کے آڈٹ اکاونٹس سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت قومی ایئرلائنز کی 96 فیصد حصص کی مالک ہے اور اپریل 2016 سے پی آئی اے پبلک لمیٹیڈ کمپنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو کارپوریٹ طرز پر چلایا جارہا ہے اور اس کے 11 ممبران پر مشتمل بورڈ میں اکثریت حکومت کی ہے۔

جیف جسٹس نے گزشتہ 9 برس میں پی آئی اے کے خسارے کے حوالے سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک برس کا علیحدہ علیحدہ خسارہ بتایا جائے، اور اس عرصے میں متعلقہ ایم ڈی پی آئی اے کا نام بھی بتایا جائے۔

پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک جرمنی کے شہری سابق ایم ڈی پی آئی اے مفرور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو گزشتہ 17 سالوں کے دوران 260.39 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کا فائدہ اٹھا کر دیگر ائیرلائنز نے ترقی کی جبکہ پی آئی اے نے تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں اٹھایا۔

عدالت نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران تعینات ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے اس کے قیام سے اب تک ایڈوائزرز، چیئرمین اور ایم ڈیز کی فہرست بھی طلب کرلیں، اس کے علاوہ مشیروں کی تفصیلات بھی طلب کرلی گئیں۔

بعد ازاں وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں پی آئی اے نجکاری کے حوالے سے کیس کی سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈیز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم واپس لے لیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 3 سو 60 ارب روپے کے نقصان کا ذمہ دار کون ہے، ہم نقصان کی وجہ اور ملازمین و افسران کا موقف جاننا چاہتے ہیں جس پر ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے عدالت کو بتایا کہ وہ آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لے کر، ذمہ دار کون اور وجوہات کے حوالے سے بتائیں گے۔

چیف جسٹس نے عندیہ دیا کہ ہم پی آئی اے کو نقصان کے تخمینہ اور ازالہ کے لئے کمیشن بنا سکتے ہیں، اس وقت پی آئی اے کے جو مشیر ہیں ان کا متعلقہ شعبے میں کوئی تجربہ نہیں، سب کچھ دوبارہ واپس آئے گا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روکتے ہوئے احکامات جاری کیے کہ قومی ادارے کی نجکاری سے قبل عدالت کو اعتماد میں لیا جائے۔

عدالت نے وقفے سے قبل سابق ایم ڈیز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حکم کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں سے کوئی باہر جائے گا تو عدالت کی اجازت سے جائے گا۔

عدالت نے پی آئی اے کے نقصان کے تخمینے کے لئے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آر) بھی طلب کرلیا۔

پی آئی اے کے ایم ڈی نے عدالت کو بتایا کہ نیویارک کا روٹ بند کردیا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لوگ اتنی محبت سے پی آئی اے میں سفر کرتے تھے نیویارک روٹ بھی بند کردیا۔

چیف جسٹس نے پی آئی اے میں بھرتیوں سے متعلق نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک کے لیے ملتوی کردی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ ظالم ہیں، دشمن ہیں، غدار ہیں وہ لوگ جنہوں نے ملکی اثاثے کو تباہ و برباد کر دیا ہے‘۔

خیال رہے کہ 6 اپریل کو سپریم کورٹ نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران پی آئی اے میں ایم ڈی کے عہدے پر فائز رہنے والے افراد کو عدالت طلب کیا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پی آئی اے کے ایم ڈیز کو اگلی سماعت میں آڈٹ کی گئی تمام اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی جمع کرانے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ عدالت نے منافع بخش روٹس کو مبینہ طور پر پی آئی اے سے لے کر نجی پروازوں خصوصی طور پر ایئر بلیو کو دیئے جانے کے حوالے سے از خود نوٹس لیا تھا۔

عدالت نے حکام کو پی آئی میں مزید بھرتی سے بھی روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد نئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اس عہدے پر منتخب ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

نجکاری کے اقدام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ایسا قدم کیوں اٹھا رہی ہے؟

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.