ہزارہ برادی کی ٹارگٹ کلنگ نسل کشی ہے ، چیف جسٹس

44

کوئٹہ: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ریاستی اداروں کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں، ان کو دشمن نہ سمجھا جائے۔

سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران ایف سی کے نمائندے، انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) بلوچستان اور ہزارہ برادری کے وکیل پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں کہ ان بدقسمت واقعات کی مذمت کرسکیں، میرے مطابق یہ نسل کشی ہے، جس پر مجھےازخود نوٹس لینا پڑا۔

سماعت کے دوران ہزارہ برادری کے وکیل افتخار علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ہمیں جانی و مالی نقصان دیا جارہا ہے، ہمیں نوکریاں نہیں دی جاتی، ہمارے لوگ مجبور ہو کر آسٹریلیا چلے گئے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی ایف سی کہاں ہیں؟ جس پر نمائندہ ایف سی نے جواب دیا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں میں ان کے نمائندے کے طور پر موجود ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے ہزارہ برادری کے جان و مال کی حفاظت کرنی ہے، اس حوالے سے تمام ایجنسیاں رپورٹ دیں کہ کس طرح یہ سب کچھ ہورہا ہے۔

دوران سماعت وکیل ہزارہ برادری نے بتایا کہ ان کے معتبرین سے بھی سیکیورٹی وپس لے لی گئی ہے، جس پر ڈی آئی جی کوئٹہ نے جواب دیا کہ ہم نے سیکیورٹی واپس نہیں لی ہے۔

ہزارہ برادری کے وکیل نے کہا کہ 20 برس دے ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، آج تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی۔

چیف جسٹس نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے رپورٹ بنائی ہے؟ جس پر آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2012 سے اب تک مختلف مکاتب فکر کے 124 افراد، 106 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور 20 آبادگار کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔

آئی جی پولیس نے بتایا کہ گزشتہ 6 برسوں میں 399 ہزارہ برادری کے افراد، 36 سنی، 29 آباد گاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں 344 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور 19 اقلیتی برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی جبکہ 2013 میں سب سے زیادہ 208 ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔

تاہم آئی جی پولیس کا عدالت میں بتایا کہ اب حالات میں کافی بہتری آگئی ہے، صوبے میں 4 ماہ کے دوران 9 ہزارہ برادری کے افراد کو نشانہ بنایا گیا جبکہ رواں سال 28 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شہید ہوئے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی شہادت کا ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے کیا تعلق ہے؟ اس پر آئی جی پولیس نے کہا کہ ہماری بہت محنت ہے، جس کی وجہ سے اعداد و شمار میں کمی آئی ہے، سی ٹی ڈی نے اغواء برائے تاوان کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت ہزارہ برادری کو تحفظ نہیں دے سکتی تو انہیں جینے کا راستہ تو دے، یہ بتائیں کس سطح پر ان معاملات کے لیے بات کی جائے۔

اس پر وکیل افتخار علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارے 2013 کے سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگراس پلان پر عملدرآمد ہو تو مسلہ حل ہو جائے گا؟

چیف جسٹس کے استفسار پر وکیل افتخار علی نے بتایا کہ اس پلان کو ازسر نو دیکھا جائے تو مزید بہتر ہوسکتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیکیورٹی پلان 2013 کو بہتر بناکر اس پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کس سطح پر ان معاملات کیلئے بات کی جائے، جب تک یہ معاملات طے ہوں گے تو اس پر عملدرآمد کا طریقہ کار بھی ہمیں دیکھنا ہوگا۔

سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہم ایک کمیٹی تشکیل دیں گے، جو یہ معاملات دیکھے گی، آپ نے یہاں سے غیر مطمئن نہیں جانا، ہم آپ کو سارا دن سنیں گے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو15دن میں تمام معاملات کی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پولیس کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت ہزارہ قبائل کے رہنما میجر (ر) نادر علی نے بتایا کہ ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی ) بنائی گئی، مگر اس کا اب تک کچھ نہیں پتا چل سکا۔

اس موقع پر ایک متاثرہ خاتون نے لاپتہ اہل خانہ سے متعلق درخواست عدالت میں جمع کروائی، اس پر چیف جسٹس نے آئی جی پولیس، برگیڈیئر ایف سی کو درخواست دیتے ہوئے انہیں آئی ایس آئی سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریاستی اداروں کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں، ان کو دشمن نہ سمجھیں۔

عدالت میں سماعت کے موقع پر چیئرمین ہزارہ جرگہ قیوم چنگیزی نے بتایا کہ بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے جن دہشت گردوں کو سزا ملی، ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، مجھے ایسا لگتا ہے کہ وە ان کے چہیتے ہیں۔

قیوم چنگیزی نے کہا کہ ہمارے شہداء کے لواحقین کو ملازمتیں نہیں دی جا رہی ہیں، ہم رعایت نہیں قابلیت کی بناء پر نوکری چاہتے ہیں۔

اس موقع پر عدالت نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ 02 مئی کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ پر از خود نوٹس لیا تھا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.