پرویز مشرف کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

1,098

 اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کو 13 جون کو لاہور طلب کرتے ہوئے وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے پرویز مشرف کی تاحیات نا اہلی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ یہ سید پرویز مشرف صاحب کون ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ پرویز مشرف سابق صدر اور سابق آرمی چیف ہیں، یہ ملک واپس آکر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تو وطن واپس آجائیں انہیں کس نے روکا ہے۔ وکیل نے جواب کہ ہائی کورٹ نے ان پر تاحیات پابندی عائد کی ہے اور واپسی پر ان کی گرفتاری کا بھی خطرہ ہے۔ وکیل نے عدالت سے پرویز مشرف کو وطن واپسی کی اجازت دینے  اور گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کرنے کی درخواست کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے پرویز مشرف وطن واپس آجائیں، نہ صرف ان پر عائد پابندی ہٹادیتے ہیں بلکہ انہیں گرفتار نہ کرنے اور ریٹرننگ افسر کو ان کے کاغذات نامزدگی وصول کرنے کا حکم بھی جاری کردیتے ہیں۔

 

سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو الیکشن میں حصہ لینے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے 13 جون (بدھ) کو لاہور طلب کر لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف 13 جون کو عدالت میں پیش ہوجائیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے پرویز مشرف کو الیکشن 2018 میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی بھی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا کہ پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ موجودہ کیس کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا۔

 

پرویز مشرف کے خلاف ملک میں سنگین غداری کا مقدمہ بھی چل رہا ہے جس میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت انہیں اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ گزشتہ دنوں آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا تھا کہ پرویز مشرف نے عید الفطر کے بعد پاکستان واپسی کا فیصلہ کرلیا تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نااہلی کیخلاف اپیل میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہو گا، پرویز مشرف آئندہ انتخابات میں4 حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ خلاف آیا تب بھی پرویز مشرف پاکستان آئیں گے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.