آصف زرداری اور نواز شریف نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا، چیف جسٹس

1,094

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے قلت آب سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا، دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے چولہ لے کر چندہ مانگوں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سربراہی میں قلت آب سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں، پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندر میں ضائع کر رہے ہیں، ڈیمز بنانے کے بجائے ہم تو گڑھے (ٹوئے) ہی نہیں بنا سکے۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا، دل کرتا ہے کہ ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے چولہ لے کر چندہ مانگوں۔

دوران سماعت درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ سابق وفاقی وزیر پانی و بجلی طارق فضل چوہدری نوسر باز ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 20 مرتبہ طارق فضل چوہدری کو بلایا۔

چیف جسٹس نے سینئر وکیل اعتزاز احسن کو معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اعتراز احسن آپ پانی کے حوالے سے 2، 3 دن میں پالیسی بنائیں۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اسلام آباد میں پانی کی قلت اور ڈیمز بنانے پر شور مچا ہوا ہے، اعتزاز احسن پینے کے پانی اورپانی کے ذخیروں کے حوالے سے رپورٹ بنا کر دیں۔

سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ پانی کامسئلہ مستقبل میں خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔

اس موقع پرعدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹینکرز مافیا حکومت کو پانی کا ایک پیسہ ادا نہیں کرتی، ملک ابرار، زمرد خان، ملک محبوب کو عدالت بلائیں اگر ان کے ٹیوب ویل ہیں تو انہیں بند کرادیں گے۔

بعد ازاں عدالت نے پانی کے مسئلے کے حل کے لیے اعتزاز احسن سے 21 جون تک تجاویز مانگ لیں،ساتھ ہی انہوں نے چیف کمشنر اسلام آباد، کنٹونمنٹ بورڈ کے افسراور چیئرمین کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے )، ملک ابرار، زمرد خان، ملک محبوب کو کل (جمعہ کو) عدالت طلب کرلیا۔

 

خیال رہے کہ 4 جون کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت کا ازخود نوٹس لیا تھا، اس سلسلے میں کراچی اور لاہور رجسٹریز معاملے میں بالترتیب 9 اور 10 جون کو سماعت بھی مقرر کی گئی تھی جبکہ چیف جسٹس پانی کی قلت سے متعلق پشاور اور کوئٹہ رجسٹریز میں بھی سماعت کریں گے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہم پانی کی اسی صورتحال کو دیکھتے رہیں گے تو مر جائیں گے، پاکستان کی 20 فیصد شرح ترقی پانی پر منحصر ہے، 48 سال ہو گئے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے اور ہم پانی کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.