سپریم کورٹ کا شریف خاندان کےخلاف ریفرنسز کا فیصلہ ایک ماہ میں کرنے کا حکم

2,124

لاہور: سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کا فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں احتساب عدالت کی درخواست پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے حوالے سے سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے احتساب عدالت کو نواز شریف، ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف دائر تینوں ریفرنسز کا ایک ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے ریفرنسز میں اپنے دلائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست بھی مسترد کردی۔

 

سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ’ اگر نوازشریف اور مریم نواز لندن میں زیرِ علاج بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے جانا چاہتے ہیں تو ہمیں درخواست دیں اور لندن چلے جائیں‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’مجھے بتائیں نواز شریف عیادت کے بعد کب واپس آئیں گے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ تشہیر کے لیے کہتے ہیں کہ ہمیں کلثوم نواز کی عیادت کے لیے اجازت نہیں دی گئی، اگر زبانی بھی درخواست کی جائے گی تو ہم اجازت دیں گے‘۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے احتساب عدالت کو ہدایت دی کہ ’عدالت ہفتہ کے روز بھی تینوں ریفرنس کی سماعت کرے، کیونکہ اس کیس سے ملزمان اور قوم دونوں پریشان اور اذیت کا شکار ہیں‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے ساتھ ہی وہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے بھی نااہل قرار پائے تھے۔

 

مذکورہ فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ نے نیب کو نواز شریف، ان کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف 3 ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ان ریفرنسز پر 6 ماہ میں فیصلہ سنانے کا بھی حکم دیا تھا۔

اسلام آباد کی احتساب عدات میں نیب ریفرنسز کی سماعت گزشتہ برس 13 ستمبر سے جاری ہے، تاہم سپریم کورٹ کی متعین کردہ مدت رواں برس مارچ میں ختم ہونی تھی تاہم سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کی درخواست پر شریف خاندان کے خلاف زیرِ سماعت نیب ریفرنسز کی ٹرائل کی مدت میں 2 ماہ تک کی توسیع کردی تھی۔

نیب ریفرنسز کی توسیع شدہ مدت مئی میں اختتام پذیر ہوئی تاہم احتساب عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ میں ٹرائل کی مدت میں مزید توسیع کے لیے درخواست دائر کی گئی جسے عدالتِ عظمیٰ نے قبول کرلیا اور ٹرائل کی مدت میں 9 جون تک توسیع کی۔

سپریم کورٹ کی توسیع شدہ مدت جون میں اختتام ہونے والی تھی، تاہم احتساب عدالت نے ٹرائل کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے 4 جون کو ایک مرتبہ پھر عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.