تحریک انصاف کا انتخابی منشور پیش، عوام سے نئے وعدے

19

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران خان نے 2018 کے انتخابات کے لیے اپنی جماعت کے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے منشور میں تمام پہلوؤں پر مفصل بحث کی گئی جسے بنانے میں الیکشن سیل کا اہم کردار ہے۔

اسلام آباد میں انتخابی منشور پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومت کو بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ریونیو جمع کرنے کا نظام نہیں ہے، گزشتہ 10 سال میں ملکی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اپنی جماعت کے انتخابی منشور کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے ہی منشور پر عمل کرنے کےلیے بہت محنت کرنا پڑے گی، جبکہ اس میں وہ چیز شامل نہیں کی جو قابلِ عمل نہیں ہے‘۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملک میں ملازمتیں فراہم کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے، تاہم حق داروں کو نوکریاں کیسے دینی ہیں اس کے لیے ہم گزشتہ چند سالوں سے منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔

عمران خان نے گزشتہ دورِ اقتدار میں خیبرپختواہ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم نے خیبر پختونخوا پولیس کو غیر سیاسی کرنے کی کوشش کی، اور صوبے میں دہشتگردی میں واضح کمی آئی جو مثالی پولیس کی بدولت ممکن ہوسکا‘۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمزور طبقے کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ ملک میں قانون بھی سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔

عمران خان نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ ’ہم اداروں کو مضبوط کریں گے اور پاکستان کی بیوروکریسی سے سیاست کو ختم کیا جائے گا‘۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات بھی پی ٹی آئی کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اس ادارے سے سیاسی اثر و رسوخ ختم کرکے خود مختار ادارہ بنائیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے چیدہ چیدہ نکات

انتظامی ڈھانچے کی اصلاح

تحریک انصاف کے منشور میں کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قومی احتساب بیورو (نیب) کو خودمختار بنائے گی اور کرپشن کے تمام مقدمات کا پیچھا کیا جائے گا۔

منشور میں کہا گیا کہ ’ہم عوام کو با اختیار بنائیں گے اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے اختیارات اور فیصلہ سازی گاؤں کی سطح تک منتقل کریں گے۔

پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق تحریک انصاف پختونخوا کی طرز پر غیر سیاسی پولیس کا ماڈل دیگر صوبوں میں بھی متعارف کروائے گی۔

شہریوں کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی کیلئے ہم عدالتی اصلاحات کا جامع پروگرام شروع کیا جائے گا۔

پاکستان کا استحکام

انتخابی منشور میں پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’ہم انتظامی ڈھانچے میں کلیدی اصلاحات اور عوامی خدمت کی فراہمی کے ذریعے کراچی میں انقلابی تبدیلیاں برپا کریں گے‘۔

ہم فاٹا کے پختونخوا میں انضمام کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے اور خصوصی مالی و سائل مختص کریں گے۔

بلوچستان میں مفاہمت کو فروغ دیں گے، جنوبی پنجاب صوبے کی تحریک اٹھائیں گے اور گلگت بلتستان کو مزید اختیارات دیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سے غربت کے خاتمے کیلئے خصوصی طریقہ کار اپنایا جائے گا اور غربت کے خاتمے کی موجودہ کاوشوں کو مزید تقویت پہنچائی جائے گی۔

اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور قومی معاملات میں سمندر پار پاکستانیوں کے کردار میں اضافہ کیا جائے گا۔

معاشی ترقی

تحریک انصاف کا اپنے انتخابی منشور میں کہنا ہے کہ ’ہم ایک کروڑ نوکریا پیدا کریں گے اور 50 لاکھ گھر بنائیں گے، اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دیا جائے گا، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو بحال کیا جائے گا، اور آئی ٹی کے شعبے میں فروغ دیا جائے گا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’ہم ایف بی آر میں اصلاحات متعارف کروائیں گے، ویلتھ فنڈ کے قیام کے ذریعے ریاست کے زیرِ ملکیت اداروں کی بحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں گے اور عوام کے لیے سرمائے کی دستیابی یقینی بنائیں گے۔

منشور میں پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کو کاروبار دوست بنائیں گے اوردو طرفہ روابط قائم کر کے سی پیک کو گیم چینجر میں تبدیل کریں گے۔

ہم توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات کو کم اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کویقینی بنائیں گے۔

زرعی شعبے کی ترقی اور آبی ذخائر

عمران خان کی جانب سے پیش کردہ منشور میں کہا گیا کہ ’ہم پانی کے انتظام کو بہتر بنانے اور پانی کا ضیاع روکنے کے لیے فوری طور پر ڈیم تعمیر کریں کیے جائیں گے اور قومی واٹر پالیسی کا نفاذ یقینی بنائیں گے‘۔

ہم آبی تنازعات کے حل کے لیے ہر ممکنہ فورم استعمال کریں گے، زراعت کو کسان کے لیے منافع بخش بنائیں گے، پیداواری لاگت کم کریں گے، زرعی منڈیوں کی اصلاح کریں گے اور ویلیو ایڈیشن میکانائزیشن کے لیے سہولیات کی فراہمی کا بیڑا اٹھائیں گے‘۔

ہم لائیو اسٹاک کے شعبے میں نمایاں بہتری لائیں گے، پاکستان کو دودھ اور دودھ سے حاصل ہونے والی مصنوعات میں خودکفیل بنائیں گے اور برآمد ات میں اضافے کیلئے گوشت کی پیداوار بڑھائیں گے۔

ہم ماہی گیری کی صنعت بحال کرینگے اور مچھلی کے ذخیرے میں اضافہ کریں گے۔

سماجی خدمات میں انقلاب

پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق تحریک انصاف تعلیم کی اصلاح کے مجموعی ایجنڈے کے تحت ملک بھر کے اسکولوں، جامعات، ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز اور دینی مدارس میں اصلاحات متعارف کرائے گی۔

ہم صحت کے شعبے میں بھی انقلاب لائیں گے صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار پورے ملک میں وسیع کیا جائے گا۔

ہم تعلیم اور روزگار میں درپیش مسائل کو دور کرتے ہوئے نوجوانوں پر خصوصی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

پاکستان ہم سب کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا اور ماحولیات کے تغیر کو مٹانے کے لیے 10 ارب درخت لگائے جائیں گے۔

پاکستان کی قومی سلامتی کا تحفظ

عمران خان کی جانب سے پیش کردہ منشور کے مطابق ان کی جماعت الیکشن میں فتح یاب ہونے کے بعد اہم داخلی و خارجی سلامتی پالیسی کے لیے پالیسی سازی کے ڈھانچے کی اصلاح کریں گے۔

ہم خارجہ پالیسی باہمی مفادات، دوطرفہ معاملات اور بین الاقوامی روایات کی پاسداری کے رہنما اصولوں پر استوار کریں گے اور تنازعہ کشمیر کے حل پر کام کا آغاز بھی کیا جائے گا۔

ہم ریاست کو اندرونی طور پر لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف سطح پر دہشت گردوں کے نظریے، انسانی و سائل، مالیات اور اسلحہ کو شکست دیں گے۔

دفاعی صلاحیت کے حوالے سے منشور میں کہا گیا کہ ’کم از کم دفاعی اصلاحیت یقینی بنانا تحریک انصاف کی دفاعی پالیسی کا مرکزی اصول ہوگا، جبکہ عالمی سطح پر اسلحے پر قابو پانے اور اس کے عدم پھیلاؤ کے اقدامات کے حوالے سے مساوات کے اصول کے پیشِ نظر بھارت کو اسٹریٹجک مذاکرات کی دعوت دی جائے گی۔

تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ حکومت کی کامیابیاں

انتخابی منشور کے مطابق یہ واحد صوبہ ہے جس نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات منتقل کیے اور ترقیاتی فنڈز کا 30 فیصد حصہ مختص کیا، یہاں پولیس کو غیر سیاسی بنایا گیا اور اہلیت کی بنیاد پر پیشہ وارانہ نظام نافذ کیا۔

صحت کے بجٹ میں 3 گنا اضافہ کیا ،70 فیصد مستحق گھرانوں کو ’صحت انصاف کارڈ‘ کا اجرا کیا گیا اور ہسپتالوں میں 5 ہزار بستروں کااضافہ کیا۔

تعلیم کے لیے کم از کم 20 فیصد سالانہ بجٹ فراہم کیا، اہلیت کی بنیاد پر 57 ہزار اساتذہ بھرتی کیے اور 10 ہزار اسکول، 47 کالجز اور 10 جامعات قائم کیں، جبکہ بون چیلنج کو پورا کرتے ہوئے صوبے میں ایک ارب درخت لگائے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.