سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے این آر او قانون بنایا، پرویز مشرف

15

این آر او قانون سے متعلق دائر درخواست ناقابل سماعت ہے، خارج کی جائے، پرویز مشرف فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سابق صدر پرویزمشرف نے سپریم کورٹ میں این آر او کے اجرا کے حوالے سے جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ این آر او قانون کسی بدنیتی سے جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت کے سیاسی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

سابق صدر پرویز مشرف نے این آر او کیس میں اپنا تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ پرویزمشرف نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ این آر او جاری کرنے کی ایڈوائس وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھیجی تھی اور میں نے ملکی مفاد کو دیکھتے ہوئے این آر او ایڈوائس پر دستخط کئے کیوں کہ اس قانون کے اجراء کا مقصد سیاسی انتقام کا خاتمہ اور صاف شفاف انتخابات کا انعقاد تھا۔

 

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ این آر او کا اجراء کرکے کوئی غیر قانونی کام نہیں بلکہ اس کا مقصد باہمی اعتماد کو بڑھانا، قومی مفاہمت کو فروغ دینا اور ملک کا بہترین مفاد تھا، این آر او قانون سے متعلق دائر درخواست ناقابل سماعت ہے لہذٰا عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو خارج کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو این آر او سے فائدہ اٹھانے کے کیس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق صدور  پرویز مشرف اور آصف زرداری سے تمام اثاثوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ پرویز مشرف کے وکیل نے جواب دینے کے لیے 2 ہفتے کی مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف عدالتوں کا احترام کرتے ہیں جواب کے لیے مہلت دے دی جائے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.