پاکستان اور چین کا ’سی پیک‘ کو وسعت دینے کا فیصلہ

22

اسلام آباد: پاکستان اور چین نے 60 ارب ڈالر مالیت کے پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں تیسرے فریق کو سرمایہ کاری کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس کے ساتھ دونوں ممالک نے سماجی شعبے اور علاقائی ترقیاتی اسکیموں کو اس منصوبے کا حصہ بنانے پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا۔

سی پیک کے حوالے سے لیے ان گئے ان دو فیصلوں پر اتفاق پاکستان کے کمیشن برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن آف چائنا (این ڈی آر سی) کے درمیان ہونے والی طویل دورانیے کہ ملاقات میں کیا گیا۔

 

4 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے کی، جبکہ این ڈی آر سی کے نائب چیئرمین نینگ جزہے نے چینی وفد کی قیادت کی۔

ذرائع کے مطابق چین نے دونوں ممالک سے دوستانہ تعلقات رکھنے والے ممالک کے اسپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیز) میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا، کیونکہ وہ اس حوالے سے ہونے والی منفی تنقید کا خاتمہ چاہتا ہے جو خاص کر امریکا اور بھارت کی جانب سے ’خفیہ معاہدوں’ پر کی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ کسی ملک کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا گیا تاہم وسطی ایشیائی، یورپی ممالک اور ترکی، روس، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک مجوزہ 9 ایس ای زیز میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

 

اس سلسلے میں گوادر کو برآمداتی منڈی کے لیے صنعتی مرکز کی حیثیت سے دوبارہ ترجیح دی جائے گی، جہاں یہ ممالک انفرادی طور پر یا پاکستان اور چین کی شراکت داری سے سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے سی پیک میں سماجی شعبے کے منصوبوں کو شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا، جس میں پینے کا صاف پانی، صحت، تعلیم اور تکنیکی تربیت شامل ہے۔

عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی تعاون کے پہلے مرحلے میں رشاکئی یا ہٹر کے خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کے حوالے سے اہم معاملات پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوسکا۔

 

وزیر برائے منصوبہ بندی خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعلقہ اداروں کو تین ماہ کے عرصے میں متعدد اقتصادی زونز کے منصوبوں کا آغاز کرنے کی ہدایت کردی ہے، کیونکہ پہلے ہی کافی وقت ضائع ہوچکا ہے۔

اجلاس میں دونوں جانب سے صنعتی تعاون کو مرکزی حیثیت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا، تاکہ برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنے کے لیے چینی صنعتیں لائی جاسکیں۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے عہدیداران نے رواں سال گوادر میں اہم ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرنے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا، جس میں گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایک ٹیکینکل انسٹیٹیوٹ اور ہسپتال شامل ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.