چاغی میں اعلیٰ قسم کے کھجور، مگر منڈیوں تک رسائی سے دور

12
تحصیل نوکنڈی ضلع چاغی بلوچستان کاعلاقہ ہے۔ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے بلوچستان اور پاکستان کا سب سے بڑاضلع ہے۔ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے 47 ہزارمربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان کے سرحدی علاقے بھی چاغی میں ہیں۔ راسکوہ کی سرزمین بھی اسی ضلع چاغی میں واقع ہے جس نے وطن عزیزکے دفاع کی خاطر ایٹم بم کواپنے سینے میں سموئے رکھ کر اور خود کالی چادر اوڑھ کر ملک کون اقابل تسخیر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ضلع چاغی کی تحصیل نوکنڈی چیئرمین سینیٹ پاکستان، حاجی محمد صادق خان سنجرانی کا آبائی علاقہ بھی ہے۔ یہ علاقہ ضلعی ہیڈکوارٹر کے صدر مقام دالبندین سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نوکنڈی شہرکے مشرق میں یک مچ، دالبندین جبکہ مغرب میں پاک ایران سرحدی پٹی پر واقع تفتان، شمال مغرب میں گولڈ میگا پروجیکٹس ریکوڈک اور سیندک، شمال میں پاک افغان سرحدی علاقے پتکوک اور جنوب میں ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل کے علاقہ جات واقع ہیں۔ نوکنڈی کے نواحی علاقوں کا تذکرہ قابل مقصود ہے جن میں سے چند علاقوں کے بارے میں کچھ ٹھہر کر بتایا جائے گا۔

نوکنڈی سیم زدہ علاقہ ہے جہاں شہر کے آس پاس 80 کلومیٹر تک پینے کے پانی کا حصول ممکن نہیں؛ اور ساتھ ہی یہاں کی زمین پتھریلی اور بنجر ہونے کی وجہ سے گرمی کے موسم میں یہاں شدید گرمی جبکہ سردی کے موسم میں قدرے کم سرد ہوتا ہے۔ مئی سے اگست تک یہاں درجہ حرارت کم سے کم 45 سے 48 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ علاقہ پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں سرفہرست ہے۔ یہاں کی زمین کاشت کے قابل نہیں، جس کے باعث یہاں زرعی پیداوار بھی صفرہے۔

آج جس موضوع کو میں اپنے نیم شکستہ الفاظ میں بیان کرنے جارہا ہوں وہ کھجور کے درختوں کے بارے میں ہے۔ کھجورکے درخت محکمہ جنگلات اور نہ ہی کسی منتخب عوامی نمائندے نے بلکہ یہاں کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لگائے ہیں تاکہ مخالف فریق ان کی زمینوں پر قابض نہ ہوجائے اور ویسے بھی درخت لگانا بخت جگانا ہے۔ یہ ایک مستحسن عمل بھی ہے۔ نوکنڈی شہرمیں پارک اور دیگر باغات نہ ہونے سے ان کھجور کے درختوں نے شہرکی خوبصورتی کو دوبالا کرنے میں کردار ادا کیا ہے اور یہ درخت شہریوں کے لئے کسی تفریح گاہ سے کم نہیں۔ نوکنڈی شہر کے علاوہ ملحقہ علاقوں عیسیٰ طاہر، براوک، گوالسٹاپ، راجے، ماشکیل، سرگیشہ، دالبندین، صالحان، پنیام اور پتکوک سمیت دیگرعلاقوں کے مجموعی طور پر کھجور کے درختوں کی تعداد ہزاروں سے بڑھ کر ہے، جن کے کھجوروں کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔ ان درختوں سے اعلیٰ قسم کے کھجور پیدا ہوتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ یہاں موسم پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت شدید گرم ہونے سے کھجور جلدی پک جاتے ہیں۔ مگرافسوس کا مقام ہے کہ اتنے بڑے رقبے میں لگائے گئے ہزاروں درختوں کے لئے ایک فیکٹری کئی عشروں بعد بھی قائم نہیں ہوسکی ہے جہاں کھجور کے درختوں کے مالکان اپنی کھجوروں کی پیداوار کو صفائی ستھرائی کے بعد مارکیٹ تک پہنچا کر اپنے لیے ذرائع آمدن بہتر بنا سکیں کرسکیں اور اپنے ادھورے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرسکیں۔

بڑی تعداد میں کھجور کے درخت ہونے کے باوجود، یہاں فیکٹری قائم کرنے کے لئے ماضی میں عوامی نمائندوں نے اور نہ ہی ان کے مالکان نے اپنی سوچ تبدیل کرکے اقدامات کرنے یا اس بارے میں آواز کرنے کے ضمن میں مستعدی ہی کا کوئی مظاہرہ کیا۔ محکمہ جنگلات اور منتخب عوامی نمائندے تو بہت پہلے ہی اس حل طلب مسئلے سے چشم پوشی اختیار کرکے بری الذمہ ہوچکے تھے؛ جو ان درختوں کے مالکان کے معاشی قتل عام کے مترادف بھی ہے۔

دُور افتادہ علاقے میں کھجوروں کی صفائی ستھرائی کے لئے فیکٹری نہ ہونے سے ان کھجوروں کی مارکیٹوں تک عدم رسائی اور اچھے بھاؤ فروخت نہ ہونے کے باعث درختوں کے مالکان ان درختوں کی مناسب طور پر دیکھ بال اور توجہ کو اپنے لئے وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ موسم شروع ہونے سے قبل کھجور کے درختوں کو ’’نر بیج‘‘ نہیں ڈالتے؛ اور نَر بیج ڈالے بغیر بہتر کھجور کا مِلنا جوئے شِیر لانے کے علاوہ اَحمقوں کی دنیا میں رہنے کے مُترادِف ہے۔

اِس جانب حکومت وقت کی توجہ مبذول کروا کر یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے اور یہ وقت کا تقاضا بھی ہے کہ اعلیٰ قسم کے کھجوروں کی ملکی سمیت عالمی مارکیٹوں میں مانگ کو مدنظر رکھ کر ضلع چاغی میں فیکٹری کا قیام فی الفور عمل میں لایا جائے جہاں کھجور کے درختوں کے مالکان اپنی کھجوروں کو صفائی ستھرائی کے لئے دے کر اپنی محنت کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ فیکٹری قائم ہوجانے سے نہ صرف ان مالکان کے بلکہ فیکٹری میں بطور ملازمین سینکڑوں افراد کو کھپا کر ان کے گھروں کے بجھے ہوئے چولہوں کو روشن بھی کیا جاسکتاہے؛ اور ساتھ ہی ان افراد کو بیروزگاری سے نبرد آزما ہونے کا گُر بھی سیکھنے کو ملے گا۔ اس سے بڑھ کر برآمدات کی صورت میں ٹیکس کی مَد میں حکومت وقت کومنافع بھی ملے گا۔

لہٰذا اس دورافتادہ اور پسماندہ علاقے میں فیکٹری کے قیام کے لئے چیئرمین سینیٹ آف پاکستان حاجی محمد صادق خان سنجرانی، رخشان ڈویژن کے ایم این اے اور بی این پی کے مرکزی رہنما میرحاجی محمد ہاشم جان نوتیزئی، ایم پی اے چاغی اور وزارتِ صحت کا قلمدان سنبھالنے والے میر محمد عارف جان محمد حسنی، سابق صوبائی مشیر میر اعجازخان سنجرانی و دیگرارباب اختیار سے اقدامات کرنے کا مطالبہ ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.