سری دیوی کی موت: بھارتی میڈیا نے صحافتی اقدار کو پامال کردیا

42

بالی وڈ کی لیجنڈری اداکارہ سری دیوی کی موت پر بھارتی میڈیا نے وہی اپنا روایتی انداز اپنایا اور ریٹنگ کے حصول کے لئے تمام صحافتی اقدار کو پامال کرتا رہا۔

ابتدائی طور پر اداکارہ کی موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونا بتائی گئی تاہم خلیجی اخبار میں موت باتھ ٹب میں ڈوب کر ہونے کی خبر شائع ہوئی تو بھارتی میڈیا نے قیاس آرائیوں کا بازار گرم کردیا۔

بھارتی مقامی میڈیا نے ریٹنگ کے حصول کے لئے سری دیوی کی موت پر مختلف مفروضے قائم کیے اور من گھڑت تبصروں کو خبروں کی زینت بنایا۔

دبئی میں آنجہانی اداکارہ کی موت کی ابھی تحقیقات جاری ہی تھی کہ بھارتی مقامی ٹی وی چینلز نے ہوٹل کے کمرے کے خاکے اور باتھ روم کی گرافکس بنا کر ‘ماہرین’ کی رائے لینا شروع کردیں اور تاثر دینے کی کوشش کی کہ سری دیوی کو باتھ روم میں قتل کیا گیا تھا۔

ایک چینل نے تو سری دیوی کو باتھ ڈب میں دکھایا اور وہیں ان کے شوہر بونی کپور کی بھی تصویر دکھائی۔

سری دیوی کی موت کو جب قتل کا رنگ دیا گیا تو سماجی رابطہ سائٹ ٹوئٹر پر سری دیوی ڈیتھ مسٹری کا ہیش ٹیگ مقبول ہوا جس میں لوگوں نے مختلف تبصرے شروع کردیے۔

ایک چینل نے سری دیوی کی موت کے آخری 15 منٹس کا بھی احاطہ کیا اور لوگوں کی توجہ اور ریٹنگ حاصل کرنے کے لئے ٹوئٹر پر ایک ٹیزر بھی جاری کیا جس میں بتایا گیا کہ اداکارہ کے آخری 15 منٹس  کس طرح گزرے اس حوالے سے جاننے کے لئے ٹی وی چینل دیکھیں۔

صحافتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے ایک چینل کے رپورٹر نے باتھ ٹب میں لیٹ کر وہاں سے رپورٹنگ کی اور سری دیوی کی موت کے اسباب بتاتا رہا۔

صحافتی اقدار کو یہاں تک ہی پامال نہیں کیا گیا بلکہ مقامی بھارتی چینلز نے سری دیوی کی موت پر افواہوں اور قیاس آرائیوں کا بازار اس طرح گرم رکھا کہ گویا وہ ان کی موت کے وقت وہاں موجود تھے۔

ایک ہندی چینل نے باتھ ٹب کو موت کا باتھ ٹب قرار دیا جس پر مختلف تبصرے کیے گئے۔

نامور بھارتی صحافی برکھا دت نے ٹی وی چینلز کی جانب سے سری دیوی کی موت کی خبر دینے کے انداز کو شرمناک قرار دیا اور اس حوالے سے انہوں نے ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ ‘نیوز کی موت’ کے نام سے چلایا جب کہ انہوں نے میڈیا کوریج پر امریکی اخبار میں ایک کالم بھی لکھا۔

سماجی رابطہ سائٹ پر ہارش گیونکا نامی صارف لکھتے ہیں کہ بطور میڈیا مبصر انہوں نے سری دیوی کی موت پر میڈیا کوریج کو سنسنی سے بھرپور، غیراخلاقی اور مضحکہ خیز پایا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.