علی ظفر اپنا نوٹس واپس لیں ورنہ قانونی کارروائی کروں گی، میشا شفیع کا جواب

16

کراچی: گلوکارہ و اداکارہ میشا شفیع نے علی ظفر کے لیگل نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہےکہ علی ظفر فوری طور پر اپنانوٹس واپس لیں ورنہ ان کے خلاف سول اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔

گلوکارہ میشا شفیع نے چند روز قبل اداکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کاالزام لگاتے ہوئے کہاتھا کہ علی ظفر نے انہیں مختلف مواقعوں پر ایک بار نہیں بلکہ ایک سے زائد بار ہراساں کیا ہے۔ میشا کےان الزامات نے میڈیا پر طوفان مچادیاتھا، تاہم علی ظفر نے اپنے اوپرلگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں نوٹس جاری کیا تھا کہ اگر میشا نے اپنے الزامات واپس نہ لیے تو وہ ان پر100 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیں گے۔ تاہم اب میشا شفیع نے علی ظفر کے لیگل نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ علی ظفر اپنا لیگل نوٹس فوری طور پر واپس لیں اور اگر انہوں نے نوٹس واپس نہ لیا تو ان کے خلاف سول اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

علی ظفر کے لیگل نوٹس کا جواب میشا شفیع کے وکیل بیرسٹر احمد پنسوٹا، نگہت داد ، قانون دان حنا جیلانی اور ثاقب جیلانی کی وساطت سے بھجوایا گیا ہے جو 4 صفحات پر مشتمل ہے۔

میشا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ علی ظفر کے نوٹس میں ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہیں جب کہ جواب میں علی ظفر سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ فوری طور پر معافی مانگیں۔ نوٹس کے جواب میں میشا شفیع نے کہا کہ وہ کسی صورت الزام واپس نہیں لیں گی، ان کی جانب سے علی ظفر پر لگائے گئے تمام الزامات درست اور حقائق پر مبنی ہیں۔ علی ظفر کے بیانات میری آواز کو دبانے کی کوشش ہے، علی ظفر کے ٹوئٹس اور الزامات کو مسترد کرتی ہوں، ان کے بیانات میری ساکھ پر حملہ ہیں۔ علی ظفر کی سوشل میڈیا مہم کے باعث ٹوئٹر کے علاوہ مجھے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پڑے۔ میشا شفیع کی قانونی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہماری کلائنٹ نے اپنے ساتھ ہوئے حادثے سے متعلق عوام کو بتانے کا فیصلہ کیا جب کہ اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ اس سے ان کی فیملی پر برے اثرات مرتب ہوں گے لیکن انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کیااور اپنے ساتھ ہوئے واقعے کو شیئر کیا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مشیا شفیع کے بعد مزید خواتین سامنےآئیں جو علی ظفر کے ساتھ کام کرچکی تھیں۔ مشیا شفیع نے اپنے وقار اور عزت کی خاطر  اور شوبز انڈسٹری سے وابستہ دوسری خواتین کیلئے اس معاملے پر مزید خاموش نہ رہنے کا فیصلہ کیااور تمام لوگوں کو اپنے ساتھ ہوئے واقعے سے آگاہ کیا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.