کامیابی 4 سال قبل کی مایوسی کا ازالہ ہے، انعام بٹ

10

 کراچی: 21ویں کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے واحد گولڈ میڈلسٹ پہلوان انعام بٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس کامیابی کو 4 سال قبل ہونے والی مایوسی کا ازالہ سمجھتے ہیں۔

برطانوی ویب سائٹ کو انٹرویو میں انعام بٹ نے کہاکہ میں جب گولڈ کوسٹ پہنچا تو صرف گولڈ میڈل کے بارے میں سوچ رہا تھا،گذشتہ کامن ویلتھ گیمز کے ریسلنگ مقابلوں میں جب بھارت کا ترانہ بجا تومیرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ ہمارا قومی پرچم و ترانہ کیوں شامل نہیں؟

انعام بٹ نے بتایا کہ میں گلاسگو میں گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہوگیا اور ڈاکٹرز نے کہہ دیا تھا کہ میں 6 ماہ تک ریسلنگ نہیں کرسکتا، اس کے باوجود میں نے ایک ٹانگ پرمقابلے کیے اور 3 فائٹس جیتیں لیکن کانسی کے تمغے کے لیے ہونے والی فائٹ 6-6 پوائنٹس سے برابر ہونے کے بعد ٹیکنیکل بنیاد پر ہارگیا۔

پاکستانی پہلوان نے کہاکہ کامن ویلتھ گیمز سے قبل میں نے حکومت سے ٹریننگ کے لیے مالی مدد کی اپیل کی لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوا، میری ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں حکومت سے کہا تھا کہ وہ مجھے کامن ویلتھ گیمز کی ٹریننگ کے لیے 10 لاکھ روپے دے اور اگر میں تمغہ نہ جیت سکوں تو میں یہ رقم واپس کردوں گا،اس اپیل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور مجھے ٹریننگ کے لیے پاکستان ریسلنگ فیڈریشن اور اپنی مدد آپ پر ہی بھروسہ کرنا پڑا۔

انعام بٹ نے کہا کہ وہ کامن ویلتھ گیمز میں 2 طلائی تمغے جیتنے والے واحد ریسلر ہیں لیکن حکومت کی جانب سے پذیرائی نہ ہونے پرمایوس بھی ہیں۔ انھوں نے 2010 میں پہلی بار بھارت میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا،وہ ایشین بیچ چیمپئن شپ، ساؤتھ ایشین گیمز، کامن ویلتھ ریسلنگ چیمپئن شپ اور ورلڈ بیچ گیمز میں بھی طلائی تمغے جیت چکے ہیں۔

ریسلر نے کہاکہ پتہ نہیں میں کونسا میڈل جیتوں گا جس پر میرا نام بھی پرائیڈ آف پرفارمنس کے لیے نامزدکیا جائے گا۔ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے ریسلر کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اس بات پر توجہ دے کہ کون سا کھیل اورکون سے شہر پاکستان کو سب سے زیادہ میڈلزجیت کر دے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ان دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان نے جو کل 5 تمغے جیتے ہیں ان میں سے 3 تمغے جیتنے والوں کا تعلق گوجرانوالہ سے ہی ہے، لہٰذا حکومت کوچاہیے کہ وہ گوجرانوالہ شہر میں مضبوط انفرا اسٹرکچر قائم کرے۔

انعام بٹ کا کہنا تھا کہ ورلڈ بیچ گیمز میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد سیکریٹری پنجاب اسپورٹس کی ہدایت پرمجھے گوجرانوالہ میں ایک چھوٹی سی جگہ دی گئی اس کو بہتر کرنے کے لیے میں نے پی ایس بی کی جانب سے دیے گئے 5 لاکھ روپے لگادیے، وہ جگہ اتنی چھوٹی ہے کہ ریسلنگ کا میٹ بھی اس پر پورا نہیں آتا لیکن میں نہ صرف وہاں ٹریننگ کرتا ہوں بلکہ 40،50 لڑکوں کو بھی ٹریننگ دے رہا ہوں۔ میں ریسلنگ فیڈریشن کے ارشد ستارکا معترف ہوں جو ریسلنگ کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔

4 سال قبل جب ارشد ستار نے فیڈریشن کے سیکریٹری کا عہدہ سنبھالا تھا اس وقت پورے پاکستان میں صرف 8 میٹ تھے لیکن آج ان کی کوششوں سے ریسلنگ میٹ کی تعداد 30 سے زائد ہوچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گولڈ میڈل کے حصول کے بعد میں زیادہ سوچنا نہیں چاہتا بلکہ میری نظریں اگلے ہدف پر ہیں، وسائل کتنے ہی محدود ہوں اور حکومت مدد کرے یا نہ کرے میں اپنی محنت جاری رکھوں گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.