مایہ ناز باکسر محمد علی، ایک عہد کو تمام ہوئے دو سال ہوگئے

12

دو سال قبل اپنے مداحوں کو غمزدہ حالت میں چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملنے والے مایہ ناز باکسر لیجنڈ محمد علی آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں۔

عہد ساز شخصیت، نرم دل رکھنے والے اور نسل پرستی کے خلاف کھل کر آواز اُٹھانے والے عظیم باکسر محمد علی کو اس دار فانی سے کوچ کیے ہوئے آج دو سال ہو گئے ہیں۔ آج بھی جہاں جہاں باکسنگ، نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور متعصبانہ اقدامات کے خلاف آواز حق بلند کرنے کا تذکرہ آتا ہے وہاں وہاں محمد علی کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔

پارکنسن سمیت دیگر بیماریوں سے نبرد آزما 74 سالہ باکسر 3 جون 2016 کو امریکی شہر فونیکس کے ایک اسپتال میں کئی روز سے زیر علاج رہنے کے بعد جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے انہیں سانس کی تکلیف لاحق تھی۔ محمد علی کلے امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئسویل میں ایک عیسائی گھر میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کیسیئس مارسیلس کلے سینئر کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر کے نام سے مشہور ہوئے۔

1975 میں اسلام قبول کرنے والے محمد علی کلے کو اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب 1960 میں روم میں ہونے والے اولمپِک مقابلوں میں سونے کا تمغا جیتا لیکن جب وہ اپنے شہر واپس آئے تو انہیں سیاہ فام ہونے کی وجہ سے نوکری نہیں مل سکی، جس سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے اپنا تمغا دریا میں پھینک دیا تھا۔ اپنے ساتھ روا رکھے گئے برتاؤ کے باوجود باکسنگ رنگ میں ان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.