تاریخ کا مشکل ترین ایشیا کپ؟

21

آج سے متحدہ عرب امارات ایشیا میں کرکٹ کی بادشاہت کے حصول کی جنگ کی میزبانی کرے گا، اور یہ کہا جارہا ہے کہ اس بار یہ جنگ ایشیا کپ کی تاریخ کی سب سے مشکل جنگ بن سکتی ہے۔

ایسا نہیں کہ اس سے قبل ایشیا کپ میں 6 ٹیمیں شریک نہیں ہوئیں بلکہ ماضی میں 2 مرتبہ ایسا ہوچکا ہے، لیکن دونوں مرتبہ اضافی 2 ٹیموں میں نے اچھے مقابلے پیش کیے اور نہ کبھی یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ بھی ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ مگر تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا موقع آیا ہے ایونٹ میں شریک 6 میں سے 5 ٹیمیں ٹائٹل جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایونٹ کے اکثر میچز دلچسپ ہونے کی امید رکھی جاسکتی ہے۔

متحدہ عرب امارات میں ہونے والے اس ایونٹ کی میزبانی بھارت کو کرنی تھی مگر پاک بھارت تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل نے ایونٹ کو بھارت کی مزبانی میں عرب سرزمین پر منعقد کرانے کا اعلان کیا۔

ایشیا کپ کے لیے پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کو واضح فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے لیکن سری لنکا کے ساتھ ساتھ گزشتہ کچھ سالوں میں تیزی سے بہتری کی جانب گامزن بنگلہ دیش اور افغانستان کی ٹیموں کو کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

 

ایونٹ میں ٹیموں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور 4 بہترین ٹیمیں اگلے راؤنڈ میں ایک دوسرے سے نبرآزما ہوں گی اور 2 بہترین ٹیمیں فائنل میں جگہ بنائیں گی لیکن یہ سفر اتنا آسان بھی نہیں ہوگا کیونکہ کسی بھی ٹیم کی چھوٹی سی غلطی بھی اسے ایونٹ سے باہر کرنے کے لیے کافی ہوگی۔

اگر ٹیموں کی بات کی جائے تو سب سے پہلے ’گروپ بی‘ پر ایک نظر ڈالتے ہیں جسے ‘گروپ آف ڈیتھ’ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ اس گروپ میں شامل تینوں ٹیمیں سری لنکا، بنگلہ دیش اور افغانستان اگلے راؤنڈ میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں افغانستان کی ٹیم کی جو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایک عجوبے کی طرح شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے عالمی منظرنامے پر خود کو منوانے میں کامیاب رہی۔

افغانستان

افغانستان کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ٹیم کے پاس ایونٹ میں شریک دیگر ٹیموں کے مقابلے میں سب سے خطرناک اور موثر اسپن باؤلنگ اٹیک موجود ہے۔

ٹی20 کرکٹ میں عالمی نمبر ایک اور ون ڈے کرکٹ میں عالمی نمبر 2، راشد خان دنیا بھر کے بلے بازوں اور ٹیموں کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنی عمدہ باؤلنگ سے افغانستان کو متعدد فتوحات سے ہمکنار بھی کرایا بلکہ راشد خان کے ڈیبیو کے بعد سے وہ اپنی ٹیم کی فتح میں اکثر اہم ترین محرک ثابت ہوئے ہیں۔

ایشیا کپ 2018ء کی ٹرافی جس کے حصول کی تمام ٹیمیں متمنی ہیں— فوٹو: اے ایف پی
ایشیا کپ 2018ء کی ٹرافی جس کے حصول کی تمام ٹیمیں متمنی ہیں— فوٹو: اے ایف پی

راشد خان کے ساتھ مجیب الرحمان اور تجربہ کار محمد نبی کی جوڑی اس ٹیم کے اسپن اٹیک کو سب سے خطرناک بنا دیتی ہے اور متحدہ عرب امارات کی وکٹوں پر جو اسپنرز کے لیے ہمیشہ ہی سازگار رہی ہیں وہاں کسی بھی ٹیم کے لیے ان باؤلرز کے 30 اوورز کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

تاہم افغانستان کا کمزور پہلو ان کی فاسٹ باؤلنگ اور خصوصاً بیٹنگ کا شعبہ ہے اور یہی 2 چیزیں اس ٹیم کے فائنل تک رسائی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

اوپننگ بلے باز محمد شہزاد اور کپتان اصغر افغان، حشمت اللہ اور رواں سال افغانستان کی جانب سے سب سے زیادہ 600 رنز بنانے والے رحمت شاہ بیٹنگ کی صلاحیتوں سے مالا مال تو ہیں مگر ایشیا کپ میں مضبوط باؤلنگ اٹیک کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار یقیناً ان کے لیے ایک مشکل ہدف ہوگا۔ اگر یہ بلے باز اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو امید کی جاسکتی ہے کہ یہ ٹیم ضرور اچھے نتائج فراہم کرے گی۔

بنگلہ دیش

ایک دور تھا جب بنگلہ دیشی ٹیم کو محض تعداد پوری کرنے کے لیے ایونٹ کا حصہ بنایا جاتا تھا لیکن 2015ء ورلڈ کپ کے بعد سے اس ٹیم کی کارکردگی میں بتدریج بہتری دیکھی جارہی ہے اور اس نے دنیا کی چند بڑی ٹیموں کو شکست سے دوچار کرکے اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کیا ہے، لیکن اس ٹیم کا بس ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ مستقل مزاجی کی کمی ہے۔

بنگلہ دیش نے 2012ء میں ایشیا کپ کے فائنل میں رسائی حاصل کی تھی جہاں اسے پاکستان نے شکست دے کر چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا لیکن ٹیم کو کارکردگی میں مستقل مزاجی نہ ہونے کے سبب وہ کوئی اچھا تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

تاہم گزشتہ 3 سالوں میں ٹیم نے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور ایشیا کپ میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں ہی شعبوں میں باصلاحیت کھلاڑیوں سے لیس اس ٹیم کو بھی اگلے راؤنڈ میں رسائی کے لیے ایک اچھا امیدوار تصور کیا جارہا ہے۔

 

تجربہ کار مشرفی مرتضیٰ کی قیادت میں یہ ٹیم نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا حسین امتزاج ہے جس میں شکیب الحسن، مشفیق الرحیم، تمیم اقبال اور مستفیض الرحمان کے تجربے کے ساتھ ساتھ مہدی حسن، مصدق حسین اور عارف الحق جیسے نوجوان کھلاڑیوں کا ساتھ بھی میسر ہوگا۔

لیکن جس شعبے میں اس ٹیم کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے وہ اس کی باؤلنگ ہے اور فاسٹ باؤلرز کی اوسط درجے کارکردگی ان کے لمحہ فکریہ ہے مگر مضبوط اسپن ڈپارٹمنٹ اور آل راؤنڈرز کی مدد سے وہ اپنی اس خامی پر قابو پاسکتے ہیں۔

تاہم ان سب سے بڑھ کر بنگلہ دیشی ٹیم کا اصل مسئلہ تجربہ کار شکیب الحسن کی انگلی کی انجری ہے جس کے سبب ان کی ابتدائی میچز میں شرکت مشکوک ہے جبکہ نوجوان نظم الحسن بھی انجری مسائل سے دوچار ہیں تاہم امید کی جاسکتی ہے کہ شکیب جلد انجری سے نجات پاکر ایونٹ میں بنگلہ دیشی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔

سری لنکا

اب ایک نظر 5 مرتبہ کی ایشین چیمپیئن سری لنکن ٹیم پر، جو شاید گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران اپنی سب سے کمزور پوزیشن کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کرے گی۔

تجربہ کار کھلاڑیوں مہیلا جے وردنے، کمار سنگاکارا اور تلکارتنے دلشان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے سری لنکن ٹیم کو بیٹنگ لائن میں سنگین بحران کا سامنا ہے جبکہ باؤلنگ بھی کچھ خاص کھیل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

اس خراب صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2015ء میں ہونے والے ورلڈ کپ کے بعد سے سری لنکن ٹیم نے 69 میچز کھیلے جن میں سے وہ صرف 22 جیتنے میں کامیاب ہوسکی۔

سری لنکن ٹیم کی موجودہ ابتر صورتحال کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سرِفہرست 20 بلے بازوں یا باؤلرز کی رینکنگ میں کوئی بھی سری لنکن کھلاڑی شامل نہیں اس پر قدرت کی ستم ظریفی یہ کہ ایونٹ سے قبل ٹیم کے سب سے اہم بلے باز اور سابق کپتان دنیش چندیمل انجری کا شکار ہوکر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے ہیں جبکہ سری لنکا کو دھنشکا گناتھیلاکا کی خدمات بھی حاصل نہیں ہوں گی۔

صرف یہی نہیں بلکہ جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز میں 14 وکٹیں لینے والے لنکن اسپنر اکیلا دھننجیا بھی ذاتی مصروفیات کے سبب ٹیم کو ابتدائی میچز میں میسر نہیں ہوں گے یعنی گروپ اسٹیج میں سری لنکا کو ان کی خدمات کے بغیر ہی اگلے راؤنڈ میں جگہ بنانا ہوگی ورنہ انہیں چند دن بعد ہی کولمبو کی فلائٹ سے واپسی کا راستہ لینا ہوگا۔

ٹیم کی قیادت اینجلو میتھیوز کریں گے جنہیں رواں سال دوبارہ یہ ذمے داری سونپی گئی تھی اور وہ تجربہ کار لاستھ ملنگا کے ساتھ ٹیم کی امیدوں کا محور ہوں گے جنہیں حال ہی میں اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بیٹنگ کے شعبے میں خصوصاً نروشن ڈکویلا، اپل تھارنگا، میتھیوز اور کوشل پریرا کو ذمے داری لیتے ہوئے اسکور بورڈ پر رنز سجانے ہوں گے تاکہ باؤلرز ہدف کے دفاع کے لیے جان لڑا سکیں بصورت دیگر ٹیم کو گزشتہ سیریز کی طرح پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔

یہ تو ہم نے بات کی ’گروپ بی‘ کی جسے ہم ’اوپن گروپ‘ بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ حالات اور واقعات کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تینوں میں سے کوئی بھی 2 ٹیمیں اگلے راونڈ کے لیے کوالیفائی کرسکتی ہے، مگر اب ہم بات کریں گے ’گروپ اے‘ کی جس میں ہانک کانگ کی شمولیت کی وجہ سے یہ واضح ہے کہ یہاں سے پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ہی اگلے راونڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گی۔

ہانک کانگ

ہانک کانگ کی بات کی جائے تو اس ٹیم کو کسی کی حمایت یا سفارش کی بنیاد پر ایشیا کپ کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں میزبان متحدہ عرب امارات کو دلچسپ مقابلے کے بعد شکست دے کر اس نے ایشیا کپ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

ویسے تو ہانک کانگ کی ٹیم میں کوئی بڑا نام نظر نہیں آتا اور بظاہر یہ بات یقینی ہے کہ یہ ٹیم اگلے راؤنڈ میں شریک نہیں ہوسکے گی، لیکن وہ کہتے ہیں کہ کرکٹ میں کوئی بھی بات کہنا حتمی نہیں لہٰذا اس قول پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ کیونکہ جب بھی ہم کسی ٹیم کو کمزور تصور کرتے ہیں تو فوراً سے 2007ء کا کرکٹ ورلڈ کپ نظروں کے سامنے آجاتا ہے جب کمزور آئرلینڈ اور بنگلہ دیش نے بالترتیب مضبوط پاکستان اور بھارت کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا تھا۔

بھارت

ایونٹ کی دفاعی چیمپیئن بھارت کی ٹیم کو فیورٹ قرار نہ دیا جائے تو یہ زیادتی ہوگی۔ کچھ حلقے اس بات بار بار زور دے رہے ہیں کہ چونکہ اس ٹیم میں مستقل کپتان ویرات کوہلی شامل نہیں ہیں اس لیے اسے ہرانا مشکل نہیں ہوگا، لیکن میں ذاتی طور پر اس سے اختلاف کرتا ہوں کیونکہ بھارتی ٹیم کا بہرحال یہ کمال ضرور ہے کہ یہ محض ایک کھلاڑی پر بھروسہ نہیں کرتی، بلکہ اس ٹیم میں ہر کھلاڑی اپنا اپنا کردار جانتا بھی ہے اور اسے اچھی طرح نبھاتا بھی ہے۔

اس مرتبہ بیٹنگ لائن میں بھارت کا انحصار اوپنرز و کپتان روہت شرما اور شیکھر دھاون کے ساتھ ساتھ لوکیش راہل پر بھی ہوگا، جبکہ مڈل آرڈر میں تجربہ کار مہندرا سنگھ دھونی اور ہردک پانڈیا کے ساتھ اجنکیا راہانے بھی موجود ہوں گے۔

باؤلنگ کے محکمے میں بھی یہ ٹیم انتہائی مضبوط نظر آتی ہے بلکہ ایونٹ میں افغانستان کی طرح یکساں خطرناک بھی کیونکہ اس کا بھی اسپن باؤلنگ اٹیک بھرپور ہے جس کی کمان یزویندر چاہل، کلدیپ یادو اور اکشر پٹیل کے ہاتھ میں ہوگی۔

گزشتہ سال چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد بھارت نے روی چندرن ایشون اور رویندرا جدیجا کو ون ڈے اسکواڈ سے باہر کرتے ہوئے ان کی جگہ نوجوان کلدیب اور چاہل کو موقع فراہم کیا جنہوں نے سلیکٹرز کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا اور بھارت کو اپنی سرزمین کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی فتوحات سے ہمکنار کرایا۔

اسپن کے ساتھ ساتھ بھارت کا فاسٹ باؤلنگ اٹیک بھی کم نہیں اور بھوونیشور کمار، جسپریت بمراہ اور ہردک پانڈیا اس ٹیم کو ایک خطرناک یونٹ کی شکل دیتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کا میچ 19 ستمبر کو ہوگا جس کا شائقین کو بہت شدت سے انتظار ہے— فوٹو: اے پی
پاکستان اور بھارت کا میچ 19 ستمبر کو ہوگا جس کا شائقین کو بہت شدت سے انتظار ہے— فوٹو: اے پی

پاکستان

اب آخر میں ایک نظر پاکستانی ٹیم پر۔ اگرچہ ایشیا کپ میں قومی ٹیم کا ریکارڈ بہت زیادہ قابلِ ستائش اور قابلِ ذکر تو نہیں، کیونکہ اب تک یہ صرف 2 مرتبہ یعنی 2000ء اور 2012ء میں چیمپئن بنی ہے، لیکن اس مرتبہ قومی ٹیم کو ایونٹ کی کامیابی کے لیے مضبوط ترین امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

پاکستانی ٹیم نے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ‘مستقل مزاجی’ کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ماضی کے برعکس اس کا مکمل سہرا باؤلرز کے سر نہیں بلکہ ایک اہم کردار بیٹنگ لائن کا بھی ہے۔

فخر زمان کے قومی ٹیم میں شامل ہونے کے بعد سے پاکستان کے ٹاپ آرڈر نے نمایاں بہتری دکھائی ہے جبکہ بابر اعظم کی تسلسل کے ساتھ فارم بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور امام الحق نے بھی اچھی کارکردگی دکھا کر اپنے چچا انضمام الحق کی لاج رکھ لی۔

گوکہ گزشتہ کچھ عرصے میں تجربہ کار محمد حفیظ کی کارکردگی بہت واجبی رہی ہے مگر متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز اور ان کی اسپن باؤلنگ کی اضافی خوبی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔محمد حفیظ کے ساتھ ساتھ فٹنس کے حصول میں ناکام عماد وسیمبھی ایونٹ میں قومی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

مڈل آرڈر میں سرفراز احمد، حارث سہیل اور شعیب ملک کے ساتھ ساتھ جارح مزاج آصف علی ٹیم کی بیٹنگ کو مضبوط بناتے ہیں جبکہ آل راؤنڈر فہیم اشرف اور شاداب خان کی بیٹنگ کی اضافی صلاحیت سے ٹیم کا بیٹنگ کا شعبہ مضبوط ہاتھوں میں نظر آتا ہے۔

باؤلنگ کے شعبے میں اسپنرز شاداب خان اور محمد نواز موجود ہوں گے جبکہ حیران کن طور پر 5 فاسٹ باؤلرز محمد عامر، حسن علی، شاہین آفریدی، جنید خان اور عثمان شنواری کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جس سے پاکستانی ٹیم کی باؤلنگ کی مضبوطی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

پاکستانی فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی اور آل راؤنڈر فہیم اشرف پریکٹس سیشن کے دور: فوٹو: اے ایف پی
پاکستانی فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی اور آل راؤنڈر فہیم اشرف پریکٹس سیشن کے دور: فوٹو: اے ایف پی

بظاہر بہترین فیلڈنگ، متوازن بیٹنگ اور مضبوط باؤلنگ اٹیک کی حامل پاکستانی ٹیم ایونٹ کے لیے واضح فیورٹ نظر آتی ہے۔ پاکستان کے لیے ایک اور مثبت پہلو متحدہ عرب امارات کے میدانوں اور کنڈیشنز سے واقفیت ہے کیونکہ بھلے ہی ایونٹ کا میزبان بھارت ہو لیکن دبئی اور ابوظہبی گزشتہ 10 سال سے پاکستان کے ہوم گراؤنڈ ہیں اور یہ پہلو پاکستان کو دیگر ٹیموں پر واضح برتری دلاتا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.