دنیا آئندہ 600 سال میں جہنم بن جائے گی، اسٹیفن ہاکنگ

24

بیجنگ: مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے خبردار کیا ہے کہ یہ دنیا آئندہ 600 سال میں اس قدر گرم ہوجائے گی کہ یہاں صرف انسان ہی نہیں بلکہ زندگی کی کسی بھی صورت کا زندہ رہنا تقریباً ناممکن ہوجائے گا اور انسانوں کو چاہیے کہ اس سے پہلے پہلے وہ سیارہ زمین کو چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہونے کی تیاری کرلیں۔

بیجنگ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایک کانفرنس ’’ٹینسنٹ ڈبلیو ای سمّٹ‘‘ سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے اسٹیفن ہاکنگ کا کہنا تھا کہ دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انسانی آبادی اور نتیجتاً توانائی کی طلب اور پیداوار میں مسلسل اضافے سے آلودگی بھی حد سے زیادہ بڑھ جائے گی جو بالآخر دنیا کی تباہی کی وجہ بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ زمین سے دوسرے سب سے قریب ترین ستارے الفا سینٹوری کے کسی سیارے پر دنیا کے لوگوں کی رہائش کےلیے موزوں ماحول میسر آسکتا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اپنے ’’اسٹارشاٹ‘‘ نامی منصوبے کی افادیت اور ضرورت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت بن جانے کی صورت میں یہ منصوبہ انسانیت کے بقاء میں کلیدی کردار ادا کرسکے گا۔ واضح رہے کہ 10 کروڑ ڈالر کے ابتدائی سرمائے سے شروع ہونے والے اس منصوبے کے تحت ایسے خلائی جہازوں پر کام کیا جائے گا جو 10 کروڑ میل فی گھنٹہ (16 کروڑ کلومیٹر فی گھنٹہ) یعنی تقریباً 45000 کلومیٹر فی سیکنڈ کی غیرمعمولی رفتار سے سفر کرسکیں گے؛ اور انسانوں کو قریبی ستاروں تک پہنچا سکیں گے۔ البتہ موجودہ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسے کسی بھی منصوبے کا پایہ تکمیل کو پہنچنا تقریباً ناممکن ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ غیرمعمولی مصنوعی ذہانت (کمپیوٹر میں انسان کی طرح سوچنے اور استدلال کرنے کی صلاحیت) بھی انسانوں کی تباہی میں بدترین کردار ادا کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 75 سالہ اسٹیفن ہاکنگ موجودہ دور کے مشہور ترین سائنسدانوں میں شامل ہیں جنہوں نے پہلے پہل 1988 میں اپنی تصنیف ’’اے بریف ہسٹری آف ٹائم‘‘ سے ساری دنیا میں مقبولیت حاصل کی اور بیسویں صدی میں آئن اسٹائن کے بعد دوسرے مقبول ترین سائنسدان کا اعزاز حاصل کیا۔

ہاکنگ نوجوانی ہی سے ایک خطرناک بیماری ’’اے ایل ایس‘‘ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے نہ تو وہ حرکت کرسکتے ہیں اور بول بھی نہیں سکتے لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند جبکہ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلی کو معمولی سی جنبش دے سکتے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.