مریخ پر کام کیلئے کسانوں اور مزدوروں کی ضرورت

31

آپ یقین کریں یا نہ کریں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے کو زراعت کے لیے کسانوں، ٹیکنیشنز، انجنیئرز، سائنسدانوں، خلابازوں اور زندگی کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، ناسا ان تمام افراد کو دراصل زمین سے دور ’مریخ‘ پر لے جا کر ایک نئی دنیا تعمیر کرنا چاہتا ہے، جہاں آنے والی ایک دہائی بعد انسانوں کی دنیا بسانے کا پروگرام بنایا جا چکا ہے۔

ناسا نے قدرے حقیقت سے کام لیتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک کے تمام افراد کی خدمات حاصل کرنے کے لیے یہ اشتہارات جاری کیے ہیں، تاکہ تمام ممالک کے لوگ اس منصوبے میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر ان کے مشن کو عملی جامہ پہنانے میں مدد کریں۔

یقینا مریخ کا سفر صحرائے گوپی یا انٹارکٹیکا کی جانب انسان کے پہلے سفر سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور کٹھن ہوگا، سائنسدانوں کو علم ہے کہ وہ ایک ایسے سیارے پر زندگی کا آغاز کرنے جارہے ہیں، جس کا ماحول زمین کی نسبت انتہائی سرد ہے، جہاں نہ صرف ہوا کا دباؤ ایک فیصد ہے، بلکہ گریوٹی بھی زمین کی نسبت 38 فیصد ہے، اور سورج کی مضر صحت شعاؤں سے بچاؤ کے لیے اوزون کی صورت میں کوئی ڈھال بھی میسر نہیں، لہذا وہاں ابتدائی انفرااسٹرکچر تیار کرنے والے افراد کا ذہین اور قابل ترین ہو نے کے ساتھ جسمانی اور اعصابی طور پر انتہائی مضبوط ہونابھی ضروری ہے۔

اور اسی مشن کو مکمل کرنے کے لیے امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے ’مارس مشن پلان‘ نامی پروگرام کے تحت ایسے افراد کو بھرتی کرکے وہاں لے جانے کا اعلان کر رکھا ہے، جو مریخ پر جاکر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے میں اہم کردار ادا کریں، تاکہ آنے والے وقت میں زمین سے انسانوں کو لے جا کر مریخ پر آباد کیا جا سکے؟

لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں زمین پر صاف و شفاف ہوا، پانی، کھانے، پھول، خوشبوئیں، کھیلوں کے لیے میدان، جانوروں کے لیے الگ رہنے کی جگہیں اور نباتات کے لیے الگ الگ علاقے موجود ہیں، وہیں مریخ پر یہ سب ایک ساتھ ہی ایک ہی کمرے نما ’ہول‘ میں کیسے رہیں گے، اور وہ بھی شفاف ہوا، پانی، کھانوں اور منفرد پھلوں کے بغیر؟

فوٹو: بشکریہ ناسا
فوٹو: بشکریہ ناسا

اگرچہ ناسا کی طرف سے 2030 تک پہلا انسانی مشن بھیجنے کا با ضابطہ اعلان کافی عرصے پہلے کیا جاچکا ہے، تاہم اب”ایلن مسک ” اور ان کی “اسپیس ایکس “ایجنسی نے گذشتہ ماہ 2024 تک مارس کی جانب چاراسپیس کرافٹ بھیجنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے 2 میں خلا باز بھی ہوں گے، یہ خلا باز وہاں فیول حاصل کرنے کے لیے پلانٹ بنائیں گے، تاکہ زمین کی طرف واپسی کا سفر ممکن بنایا جا سکے۔ ایلن مسک کے ایک بیان کے مطابق ایک اسپیس کرافٹ میں 40 کیبن بنائے جائیں گے، جن میں لگ بھگ 100 افراد سفر کر سکیں گے، مگر اس پراجیکٹ پر تبصرہ کرنے والوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس اب تک اپنے زیادہ تر دعوے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انجینئرنگ نقطۂ نظر سے اس طرح کا سسٹم اسی وقت قابل عمل ہے، جب اس کو 500 ٹن سے گھٹا کر محض 150 ٹن یا اس سے بھی کچھ کم کر دیا جائے، اور براہ راست کمرشل فلائٹس کے بجائے ابتداء میں 10 سے 12 ایسے افراد کو بھیجا جائے جو وہاں ایگری کلچر کی بنیاد اور ڈوم کی شکل کے مکانات تیار کریں، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ماہرین اور سائنسدان بلکہ مارس مشن میں دلچسپی رکھنے والے عام افراد بھی اسپیس ایکس کے بجائے ناسا کے مشن کو حقیقت سے زیادہ قریب قرار دے رہے ہیں۔

ناسا کی طرف سے ’مارس مشن پلان‘ کے لیے خلابازوں کی بھرتی کے جو پوسٹرز آن لائن جاری کیے گئے ہیں ان میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپلائی کی دعوت دی گئی ہے، مگر فی الحال ان کی ترجیح سروے کرنے والے افراد، ٹیکنیشنز، فارمرز، انجینئرز اور اساتذہ ہیں۔

فوٹو: بشکریہ ناسا
فوٹو: بشکریہ ناسا

ناسا کے منصوبے کے مطابق اس مشن کا آغاز 2030 میں”پائیونیر اسپیس کرافٹ ” کے مارس پرلینڈنگ کے ساتھ ہوگا،اگلے مرحلے میں وہاں سروے کرکے ‘ڈوم’ کی شکل کے مکانات بنانے پر کام شروع کیا جائے گا، جس کے لیے مریخ کی اپنی مٹی استعمال کی جائے گی جب کہ تھری ڈی پرنٹنگ کے آپشن پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ 100 میٹر کے ان گھروں کو سرنگوں کے ذریعے آپس میں ملایا جائے گا، جس سے ایک کالونی تشکیل پائے گی اوراگلے مرحلے میں اس اسٹرکچر کو آگے بڑھاتے ہوئے لمبی لمبی ٹنلز کے ذریعے ایک قابل رہائش علاقہ یا ‘ہیبی ٹیبل‘ زون بنایا جائےگا، جو لامحالہ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ پھیلتا ہوا، پورے سیارے کو آباد کر دے گا۔

مگر یہاں انسانوں، جانوروں اور نباتات سب کو ان ڈوم نما گھروں کے اندر اکھٹے رہنا ہوگا، یعنی زمین پرجو خوش کن آب و ہوا اور کھلی فضا ہمیں پیدائش کے ساتھ مفت میسر آتی ہے، مریخ پر وہ کروڑوں،اربوں ڈالرز کے مول بھی دستیاب نہ ہو گی،لہٰذا شاعروں اور رومانوی طبیعت رکھنے والے افراد کا اس سیارے پر گزارا بہت مشکل ہے، لیکن یہ سب ابھی تک ابتدائی منصوبہ بندیاں اور تصور کی اختراعیں ہیں، حقیقت کیا ہوگی کہنا قبل از وقت ہے۔

مریخ پر زندگی اتنی آسان اور دلفریب نہ ہوگی جتنی ان پوسٹرز میں د کھائی دے رہی ہے، سچ تو یہ ہے کہ ابتدا میں وہاں رہائش اختیار کرنے والے افراد کو شدید ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ انتہائی کٹھن مراحل سے گزرنا ہوگا، تفریح کے بغیر،کام، کام اور صرف کام کرنا ہوگا، دل سے زیادہ دماغ،جذبات و احساسات سے بڑھ کر عقل کو اہمیت دینا ہوگی، دوسرے الفاظ میں ابتداء میں مریخ پرزندگی انسانی کم اور “ایلین نما” زیادہ ہوگی، جب کہ سورج کی مضر صحت شعاؤں کی براہ راست زد پر ہونے کے باعث کینسر کا خطرہ بھی ہر لمحے لاحق رہے گا۔

فوٹو: بشکریہ ناسا
فوٹو: بشکریہ ناسا

سست اور کاہل افراد کا بھی مریخ پر گزارا کسی صورت ممکن نہیں، کیوں کہ دیگر مشقتوں کے علاوہ وہاں اپنی خوراک بھی خود اگانا ہوگی، مگر یہ زمین کی طرح کی فارمنگ نہیں ہوگی، بلکہ جدید ترین ایگری کلچرل اور جینیٹک تکنیکس استعمال کرتے ہوئے “ہائی ٹیک گرین ہاؤسز ” میں “پالک اور سالاد کے پتوں ” جیسی فصلیں کاشت کی جائیں گی، جن میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، یعنی “فوڈ لوورز” کا بھی مارس پر رہنا ممکن نہیں ۔ امید ہے کہ یہ سطریں پڑھ کر بہت سوں کو زمین پر دستیاب انواع و اقسام کے پھلوں، سبزیوں اور سی فوڈ کی اصل قدر و قیمت کااحساس ہوگا، جو ہمیں زمین پر با آسانی دستیاب ہیں، اور ہم ان کی قدر کرنے کے بجائے ہر روز ٹنوں خوراک ضائع کردیتے ہیں۔

ناسا کے منصوبے کے مطابق 2040 تک کالونیز بنا کر مریخ پر آباد کاری کا آغاز کر دیا جائے گا، لیکن اس حوالے سے ایک اور انتہائی توجہ طلب امر انسان کے وہاں بس جانے کے بعد اسی سیارے پر پیدا ہونے والے بچوں، ان کی صحت، نشونما اور ذہنی و نفسیاتی عوامل سے متعلق ہے، یقینا مریخ پر پیدا ہونے والے بچے عام بچوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ شاید ان کا بچپن بھی اسکول جاتے اور پڑھتے لکھتے گزرے، مگر وہ کتابوں سے زیادہ اپنے ماحول سے سیکھیں گے، کھلی فضا میسر نہ ہونے کے باعث ان کی زندگی میں سیر و تفریح کم ہوگی، جب کہ کھیلوں میں”لو گریویٹی” کی وجہ سے وہ صرف باسکٹ بال سے لطف اٹھا سکیں گے، یا شاید وہاں کچھ نئے آؤٹ ڈور کھیل ایجاد کر لیے جائیں۔

انسان کی فطرت کا خاصہ ہے کہ وہ ہررنگ میں ڈھلنے اور ہر حال میں جینے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، جہاں انسانی تصور کی حدیں ختم ہوتی ہیں، وہیں سے انھیں حقیقت کے روپ میں پیش کرنے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے، جب تک آپ ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھیں رہیں گے، تب تک یہ سب محض سائنس فکشن کی کہانیاں ہیں۔ اسی لیے مریخ پر انسان کی آباد کاری ممکن ہے یا نہیں اس حوالے سے وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، مگر ایک بات یقینی ہے کہ یہ کائنات لا محدود ہے، ہمارے نظام شمسی سے باہر نہ جانے کتنے ایسے سیارے موجود ہوں گے جو زمین کے مشابہہ ہوں گے، جہاں انسان کو شاید مریخ جیسی روکھی پھیکی اور مشقت طلب زندگی نہ گزارنی پڑے، لیکن ان تک رسائی کے لیے زمین کی حدوں کو پھلانگ کر نئے ٹھکانے بنانا اشد ضروری ہیں، اور ناسا کا “مارس مشن ” اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

فوٹو: بشکریہ ناسا
فوٹو: بشکریہ ناسا

یہ مضمون صادقہ خان نے تحریر کیا ہے جو بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں اور اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ سائنس اور سائنس فکشن ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.