ملکی وے کہکشاں سے باہر پہلی مرتبہ کئی سیارے دریافت

15

اوکلاہاما: اب تک فلکیات داں ہمارے نظامِ شمسی کے باہر 3500 سے زائد سیارے دریافت کرچکے ہیں جن کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اب یونیورسٹی آف اوکلاہوما (اوہایو) کے ماہرین نے ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں سے باہر کئی سیارے دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل ملکی وے کہکشاں سے باہر کئی اجسام پر سیاروں کا گمان ضرور ہوا تھا لیکن ان کی بطور سیارہ تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔ ماہرین نے 3.8 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہماری اپنی کہکشاں سے باہر گریوی ٹیشنل مائیکرو لینسنگ کے ذریعے کئی سیارے دریافت کئے ہیں۔ جب قریبی بلیک ہول یا کہکشاؤں کی ثقل زمان و مکان میں خم ڈالتی ہے تو دور کے سیارے قریب دکھائی دینے لگتے ہیں؛ اس عمل کو ثقلی عدسہ گری یا گریوی ٹیشنل لینسنگ کہتے ہیں۔ اگراس عمل کے بغیر دور دراز اجسام کو تلاش کیا جائے تو یہ عمل بے انتہا بہت مشکل اور وقت طلب ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح نئے سیارے اب تک دریافت ہونے والے بعید ترین سیارے بھی ہیں۔

اس کے لیے ماہرین نے چندرا ایکس رے خلائی دوربین سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کیا۔ اس ڈیٹا کا سپر کمپیوٹر کے ذریعے تجزیہ کیا گیا تو لگ بھگ 2000 مختلف اجسام سامنے آئے جس کے بعد ماہرین نے ان تمام اجسام کی کمیت معلوم کی۔

ان میں سے بعض اجسام ہمارے اپنے چاند جیسے تھے اور کچھ نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے برابر نکلے۔ ماہرین نے ان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام سیارے ہیں۔ اس طرح تاریخ میں پہلی مرتبہ ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے سے باہر بھی سیارے دریافت کرلیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.