کیا آب و ہوا کی تبدیلی پاکستان کو تباہ کردے گی؟

33

 اسلام آباد: پاکستان میں گزشتہ 30 برس میں سالانہ ہیٹ ویوز (شدید گرمی کی لہروں) میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ کراچی کے قریب سمندر کی اوسط بلندی 10 سینٹی میٹر بڑھی ہے جب کہ اس صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت 2 سے 5 درجے سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں پر سمندروں کی اوسط سطح بڑھ کر 60 سینٹی میٹر ہوجائے گی اور دریائے سندھ کا بہاؤ ناقابلِ اعتبار ہونے سے زراعت اور آبادی شدید متاثر ہوگی۔

اس طرح کی پریشان کن پیش گوئیاں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی ایک حالیہ رپورٹ میں کی گئی ہیں جو پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز ماہر ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری نے مرتب کی ہے۔ 130 صفحے کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گرمی بڑھنے سے دریاؤں کے پانی کے بخارات بننے کا عمل بڑھے گا جس سے پانی کی قلت ہوگی اور دریاؤں میں پانی کی قلت ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ اس رپورٹ میں ایک جانب تو ماضی میں ہونے والی موسمیاتی اور آب و ہوا کی تبدیلیاں نوٹ کرکے مستقبل کا منظر کھینچا گیا ہے جبکہ دوسری جانب آب و ہوا سے متعلق جدید ماڈلوں (کلائمیٹ ماڈلز) کو بھی مدِ نظر رکھتے ہوئے ان سے مستقبل کے رحجانات اور امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) سے متعلق بہت مؤثر پالیسی تیار کی ہوئی ہے، جس پر کچھ عمل درآمد تو ہوا ہے لیکن اس کے دیگر پہلوؤں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آب و ہوا اور موسم کے لحاظ سے ’’پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن اگلے پانچ برس میں موسمیاتی شدت اور مون سون کے معمول میں بگاڑ کے واقعات زیادہ رونما ہوسکتے ہیں۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک جانب تو 2030 تک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 20 فیصد تک کم کرنا ہے لیکن دوسری جانب آب و ہوا کے مسائل حل کرنے کےلیے اسے سالانہ 7 تا 14 ارب ڈالر کی بھی ضرورت ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی تپش کی وجہ بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے فی کس اخراج کے لحاظ سے پاکستان کا 135 واں نمبر ہے لیکن ایک تنظیم جرمن واچ کے مطابق پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے اور ہو بھی رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی تبدیلیاں خطے کے بقیہ علاقوں سے زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔ گرم دن اور گرم راتوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور چاول و گندم کی پیداوار کم ہوجائے گی جب کہ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی شدت اور دورانیے، دونوں میں ہی تیزی واقع ہوگی۔

ڈاکٹر قمر الزماں چوہدری نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین معاشی راہداری (سی پیک) کے ماحولیاتی، توانائی، انفراسٹرکچر پر بہت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لحاظ سے سی پیک کے تحت ایسا ڈھانچہ بنانا ہوگا جو ایک جانب تو ماحول دوست ہو اور دوسری جانب وہ ان تمام ماحولیاتی تبدیلیوں کو سہنے کا اہل بھی ہو۔

واضح رہے کہ پاکستان میں موسمیاتی شدت کے واقعات بڑھ گئے ہیں جن کی ایک مثال پنجاب اور بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشیں ہیں جو موسمیاتی مظاہر کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.