نفسیات اور فزکس کے مشترکہ مسائل

18

سقراط اور اس کے شاگرد افلاطون کو کائنات کی حقیقت سے انکار ہی رہا۔ اسے کوئی دلچسپی نہ تھی کائنات کا علم حاصل کرنے سے، افلاطون نے لکھا، ’’ کائنات کا علم حاصل کرنے سے اور تو کچھ ملتا نہیں، چند مفروضات کے سوا۔ اور وہ مفروضات بھی غیر قطعی، ناپختہ، بے بنیاد اور عارضی ثابت ہوتے ہیں‘‘۔ (افلاطون کی بات کا مفہوم) چنانچہ یونانی فلسفہ و فکر کا مطمعِ نظر کلّیات کا مطالعہ تھا۔

ایبسولیٹزم کے شیدائی یونانی استقرائی منطق سے گھبراتے تھے۔ اگرچہ افلاطون کے شاگر ارسطو نے، جسے ہم بابائے لاجک کے نام سے جانتے ہیں، استخراجی (ڈیڈکٹو) منطق کے ساتھ استقرائی (انڈکٹو) منطق بھی دریافت کرلی تھی لیکن اس نے پھر استقرائی منطق کے لیے مزید کچھ نہ کیا۔ بقول علامہ اقبالؒ، یہ اسلام تھا جس نے انڈکٹو لاجک کا آغاز کیا۔ اور جس سے سائنس کا آغاز ہوا اور آج دنیا کی تہذیب اس مقام پر پہنچ پائی جہاں ہے بشمول مغرب ٹائم اینڈ سپیس کے جدید نظریات، تقریباً تمام تر سائنس کی مشقت سے ڈیولپ ہوئے ہیں نہ کہ فلسفہ کی۔

سٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب “دی گرینڈ ڈیزائن’’ میں لکھا ہے کہ “فلسفہ کی موت واقع ہوچکی ہے‘‘۔ اْس نے مزید یہ بھی کہا کہ ’’رینے ڈیکارٹ‘‘ فادر آف ماڈرن فلاسفی نہیں ہے بلکہ وہ پہلا ماڈرن سائنسدان ہے۔ مگر سٹیفن ہاکنگ کا یہ بیان درست نہیں ہے۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ٹائم اینڈ سپیس کے جدید نظریات کائنات کے بارے میں فلسفیوں کے نقطۂ نظر میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا باعث بنے ہیں۔ لیکن اگردیکھا جائے تو جدید فزکس اور بطور خاص تھیوریٹیکل فزکس سائنس ہونے سے کہیں زیادہ فلسفہ ہے۔ اور جدید تھیوریٹیکل فزکس کسی علم کے سائنس ہونے کی شرائط پر ہرگز پوری نہیں اْترتی کیونکہ کسی علم کے سائنس ہونے کی اوّلین شرط اْس میں حسی تجربے کا ملوث ہونا ہے۔جبکہ جدید تھیوریٹیکل فزکس میں حسی تجربہ برائے نام بھی ملوث نہیں۔

تمام تر نظریات کی بنیاد یا تو ریاضی ہے اور یا خالص فلسفہ۔ کائنات کی تشریح کے علوم کا فلسفیوں کے ہاتھ سے نکل کر فزسسٹس کے ہاتھ لگ جانے سے ایک اور بڑا نقصان جو ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ جدید فزکس نے دنیا بھر کے تمام علوم کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بری طرح متاثر کیا ہے نہ کہ اچھی طرح۔ وہ اس لیے کہ محض حسی تجربے سے حاصل ہونے والے علوم کی غیر حتمیت بقول کانٹ ایک المیہ ہے۔کیونکہ ہم حسی تجربے کی مدد سے حقیقت کے محض ایک مختصر سے حصے کو جان سکتے ہیں۔ اس سے قبل ریشنلسٹ فلاسفی کی مدد سے دنیا بھر کے تمام تر نظام ہائے معیشت ہی نہ صرف وجود میں آئے بلکہ تمام تر سیاسی نظام، علم ِ نفسیات کی داغ بیل، کمپیوٹر کی ایجاد اور سب سے بڑھ کر خود جدید فزکس کی رہنمائی ہمیشہ اکیلے فلسفہ نے کی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.