نیا اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کیسے آپ کے فون کو بدلے گا؟

14

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایپل کا آئی فون ایکس گزشتہ 6 ماہ کے دوران ریلیز ہونے والے بہترین اسمارٹ فونز میں سے ایک ہے لیکن اس کے ساتھ ریلیز کیے گئے نئےآپریٹنگ سسٹم iOS11 میں کئی مسائل سامنے آ رہے ہیں۔

ایک یوٹیوبر ’’ایوری تھنگ ایپل پرو‘‘ نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ iOS11 پر چلنے والے آئی فون، آئی پیڈ اور میک کو صرف ایک ٹیکس میسج کے ذریعے ناکارہ کیا جا سکتا ہے۔

مذکورہ میسج جسے ’’بلیک ڈاٹ (کالا نقطہ)‘‘ کہا جاتا ہے سب سے پہلے’’آئی میسج‘‘ ایپ کو ناکارہ کرتا ہے جس کے بعد آئی او ایس اور میک آپریٹنگ سسٹم اور ان میں موجود دیگر ایپس کو اپنا ہدف بناتا ہے۔

’’ایوری تھنگ ایپل پرو‘‘ کے مطابق ایپل کی بیشتر ڈیوائسز میں اس سے بچنے یا اس خرابی سے نکلنے کا کوئی آسان حل موجود نہیں ہے۔

ویب سائٹ ’’نائن ٹو فائیو میک‘‘ کے مطابق ’’بلیک ڈاٹ ‘‘ بظاہر کالے رنگ کے ایک ایموجی (جسے جان بوجھ کر یہاں نہیں لکھا گیا ہے) پر مشتمل ہے لیکن اس کے پیچھے ہزاروں کی تعداد میں نظر نہ آنے والے یونی کوڈ حروف چھپے ہوتے ہیں۔

بلیک ڈاٹ پیغام کا عکس — بشکریہ 9to5Mac

یہ حروف پروسسنگ انجن کو غیرمعینہ مدت کے لیے مصروف کر دیتے ہیں جس سے دیگر ایپس اور آئی او ایس قابل استعمال نہیں رہتا۔

’’نائن ٹو فائیو میک‘‘ نے بتایا ہے کہ اس خرابی کو ٹیسٹ کرتے ہوئے ان کے میک پر 30 جی بی میموری کی ایک فائل بن گئی تھی۔

اس پریشانی کا حل کیا ہے؟

اگر ایک مرتبہ آپ کا فون یا ڈیوائس اس مسئلے سے دوچار ہو گئی تو آئی میسج کو بند کرنے یا ڈیوائس کو ری سٹارٹ کرنے سے بھی یہ مسئلہ دور نہیں ہوگا۔ لیکن اس کا اب تک حل تھری ڈی ٹچ والی ڈیوائسز پر موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس تھری ڈی ٹچ موجود ہے تو آپ آئی میسج ایپ کو ’’ہارڈ پریس‘‘ کرکے  نئے پیغام میں جائیں اور پھر بیک جا کر ’’بلیک ڈاٹ‘‘ پیغام کو ڈیلیٹ کر دیں۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیشتر ایپل ڈیوائسز پر تھری ڈی ٹچ کا آپشن دستیاب نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حل صرف اُس صورت میں موجود ہے جب آپ کے پاس کوئی اور ایپل ڈیوائس موجود ہے۔

اس کے لیے آپ اپنے آئی میسج کو دوسری ڈیوائس پر کھولیں اور وہاں سے بلیک ڈاٹ پیغام کو ڈیلیٹ کر دیں۔ اس سے آپ کی متاثرہ ڈیوائس (آئی فون یا آئی پیڈ) کی میموری کلیئر ہو جائے گی اور وہ دوبارہ کام کرنے لگے گی۔

فی الوقت ، ایپل کی iOS11 کے کسی بھی ورژن پر چلنے والی کوئی بھی ڈیوائس اس خطرے سے محفوظ نہیں ہے۔

اگرچہ ’’ بلیک ڈاٹ ‘‘گوگل اینڈرائڈ ڈیوائسز کو بھی متاثر کرتا ہے لیکن اینڈرائڈ  ڈیوائسز پر اس کا اثر کم ہے۔اینڈرائڈ صارفین صرف اپنی ایپ کو بند کرکے اگر کھولیں گے تو ان کا مسئلہ دور ہوجائے گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.