سیلفی سپر اسٹار پی 20 لائٹ پاکستانیوں کو کتنا پسند آئے گا؟

33

میں نے گزشتہ ایک ہفتہ اپنی بیداری کا ہر لمحہ ہیواوے کے پی 20 لائٹ کے ساتھ گزارا ہے، یہ وہ فون ہے جو چینی کمپنی نے مارچ کے آخر میں اپنی فلیگ شپ پی ٹوئنٹی سیریز کے مڈرینج کے طور پر پیش کیا تھا۔

پی-20 لائٹ میں بہت سی خوبیوں کے ساتھ ساتھ چند ایک خامیاں بھی ہیں، تاہم یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اس کا ڈیزائن دل جیت لینے والا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اچھا موبائل استعمال کرنے والے بہت سے افراد کو پی-20 لائٹ بہت پسند آیا ہے، کیونکہ گزشتہ ماہ کے آخر میں اسے پاکستان میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا اور ایک ہفتے بعد ہی کمپنی کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ اس نے کمپنی کے مڈ رینج فونز کی فروخت کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، یہاں تک کہا گیا کہ اس کا اسٹاک ختم ہوگیا۔

۔

ویسے اسکرین ٹو باڈی ریشو 80 فیصد ہے، جو کہ متاثر کن ہے، آئی فون ایکس (10) جیسا نوچ، جو آج کل بہت پسند بھی کیا جا رہا ہے، اس موبائل کا بھی حصہ ہے، جبکہ گلاس بیک بھی اپنی چمک سے آنکھیں چندھیا دیتی ہے۔

کیا یہ فون واقعی اتنا اچھا ہے کہ اسے خریدا جائے؟ اس کا فیصلہ اس کے فیچرز یا ریویو پڑھ کر کرنا آپ کے لیے زیادہ آسان ہوگا۔

ڈیزائن
فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

جیسا اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ پی 20 لائٹ دیکھنے میں بہت خوبصورت فون ہے، متاثرکن ڈیزائن میں بیزل لیس ڈسپلے (لگ بھگ)، راﺅنڈ کارنرز (جو کہ آئی فون سے متاثر لگتے ہیں) اور اسکرین کی ٹاپ پر چھوٹا سا نوچ اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

اس کا سائز 71.2×7.4×148.6mm ہے،تو اسے کامپیکٹ تو کہا جاسکتا ہے مگر یہ چھوٹا نہیں۔

پی-20 لائٹ سے لی گئی تصاویر

اسی طرح اس کی بیک گلاس سے بنی ہے، جس کے باعث انگلیوں کے نشانات مخصوص زاویے سے اس میں نظر آتے ہیں، مگر اس کی چمک متاثر کن ہے، جبکہ فنگر پرنٹ اسکینر فون کے بیک پر مناسب جگہ پر موجود ہے، عمودی ڈوئل رئیر کیمرہ بائیں جانب کے اوپری کونے کے پاس ہے۔

پاکستان میں یہ فون مڈنائٹ بلیک اور کلائن بلیو رنگوں میں دستیاب ہے، ان کا ڈیزائن کسی بھی طرح کسی فلیگ شپ فون سے کم نہیں۔

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

جب آپ پی 20 لائٹ کو ہاتھ میں پکڑتے ہیں، تو سب سے پہلے جو احساس ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ یہ کتنا ہلکا ہے، اس کا وزن محض 145 گرام ہے جو کہ بیشتر فونز سے کافی کم ہے۔

پی 20 لائٹ میں ہیواوے نے ہیڈفون جیک کو برقرار رکھا ہے (جو کہ اس ساتھ پیش کیے گئے پی-20 اور پی-20 پرو میں نہیں)، مگر اسے فون کے نیچے یو ایس بی سی پورٹ (فون کو چارج کرنے کے لیے) اور اسپیکر کے ساتھ رکھا گیا ہے، جس کا احساس کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوتا، کیونکہ اسپیکر اکثر گیم کھیلتے یا ویڈیو دیکھتے ہوئے ہاتھ سے چھپ جاتے ہیں، جس سے آواز دب جاتی ہے، جبکہ یہی معاملہ ہیڈفون کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیڈفون جیک، چارجنگ پورٹ اور اسپیکر کا ڈیزائن بھی آئی فون سکس سے متاثر ہے، جبکہ اس میں سم کارڈ ٹرے بائیں جانب کے کونے میں موجود ہے، جس میں سم کے ساتھ مائیکرو ایس ڈی کارڈ لگایا جاسکتا ہے، پاور اور والیوم بٹن دائیں جانب دیئے گئے ہیں۔

نوچ اور چہرہ شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی
فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ نوچ ڈیزائن سب سے پہلے essential فون میں سامنے آیا تھا، مگر اسے آئی فون ایکس نے مقبول بنایا اور اب یہ فیچر متعدد فلیگ شپ اور مڈ رینج فونز میں اپنایا جاچکا ہے، لگتا ہے کہ رواں سال مزید ایسے فونز سامنے آتے رہیں گے۔

اب کچھ افراد کو یہ ڈیزائن پسند آتا ہے اور کچھ کو نہیں، مگر اس وقت مارکیٹ میں اس کا بہت چرچا ہے۔

نوچ سے ہٹ کر آپ فنگر پرنٹ، پیٹرن یا پاس ورڈ کی جگہ فون کو اپنے چہرے سے بھی ان لاک کرسکتے ہیں، جس کے لیے ہیواوے نے چہرہ شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی کو اس فون میں فیس ان لاک کے نام سے حصہ بنایا ہے۔

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

فیس ان لاک کے لیے فرنٹ کیمرے کا استعمال کیا جاتا ہے، یہ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں فون کو ان لاک کردیتا ہے۔

عام طور پر یہ ٹیکنالوجی مہنگے فلیگ شپ فونز میں نظر آتا ہے، تو ایک مڈرینج فون میں اس کی موجودگی کافی اچھی ہے۔

ڈسپلے
فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

پی 20 لائٹ میں 5.84 انچ کی آئی پی ایس ایل سی ڈی (فل ایچ ڈی پلس اسکرین) دی گئی ہے، جس میں 2280×1080 پکسلز ریزولوشن ہے۔

آسان الفاظ میں رنگ اچھے ہیں، جنہیں اپنی مرضی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے جبکہ اس میں لائٹ سنسر موجود ہے جو کہ اسکرین کی برائٹنس خودکار طور پر ایڈجسٹ کرتا ہے، جس کی وجہ سے چھت سے باہر یعنی دھوپ یا تیز روشنی میں بھی اسے استعمال کرنے میں مسئلہ نہیں ہوتا۔

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے
پراسیسر، میموری، بیٹری اور اسٹوریج

پی-20 لائٹ میں کمپنی نے اپنا تیار کردہ کیرین 659 پراسیسر استعمال کیا ہے جو کہ ہیواوے آنر 9 لائٹ، آنر 7 ایکس اور ہیواوے وائے 9 (2018) میں بھی موجود ہے، جو کہ پی 20 لائٹ سے کافی سستے ہیں (10 سے 12 ہزار روپے)، تو کمپنی کو اس میں نیا یا کچھ بہتر پراسیسر استعمال کرنا چاہئے تھے، تاہم کمپنی نے یہ کسر ریم اور اسٹوریج کی شکل میں پوری کی۔

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

یہ فون 64 جی بی اسٹوریج اور 4 جی بی ریم کے ساتھ ہے، اس کے علاوہ مائیکرو ایس ڈی کارڈ کی مدد سے اسٹوریج کو 256 جی بی تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

اس فون میں نان ریموو ایبل 3000 ایم اے ایچ بیٹری ہے، جو عمومی استعمال میں آرام سے ایک دن تک چلتی ہے جبکہ کمپنی کی جانب سے فاسٹ چارجنگ کی سہولت بھی دی گئی ہے۔

آپریٹنگ سسٹم اور ایپس
فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

ہیواوے کے فون میں عمومی اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے ای ایم یو آئی کے انٹرفیس کو اس کا حصہ بناتی ہے، پی 20 لائٹ میں بھی اینڈرائیڈ اور یو 8.0 اور ہیواوے کے اپنے ای ایم یو آئی 8.0 کا امتزاج ہے۔

صرف اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والوں کو ہوسکتا ہے کہ کچھ مشکل کا سامنا ہو، مگر اس کے مقابلے میں ایسی متعدد سیٹنگز مل جاتی ہیں، جنہیں اپنی مرضی سے ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

اس میں روزمرہ کے استعمال کی بیشتر ایپس جیسے انسٹاگرام، فیس بک، میسنجر اور یوٹیوب وغیرہ پہلے سے موجود ہیں، مگر واٹس ایپ استعمال کرنے والوں کو گوگل پلے اسٹور کا رخ کرنا پڑے گا۔

کیمرے
فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

اس فون میں بیک پر ڈوئل کیمرہ سیٹ اپ ہے، جن میں سے ایک 16 میگا پکسل سنسر (ایف 2.2 آپرچر) اور دوسرا 2 میگا پکسل سنسر کے ساتھ ہے، جو کہ پورٹریٹ موڈ میں دھندلے پس منظر یا bokeh ایفیکٹ میں مدد دیتا ہے اور کافی حد تک اچھا کام کرتا ہے۔

دن کی یا تیز روشنی میں اس فون کے کیمرے سے اچھی تصاویر کھینچی جاسکتی ہیں، جن میں رنگ بہت واضح ہوتے ہیں، تاہم زوم ان کرنے پر تصویر کا معیار متاثر ہوتا ہے، مگر پھر بھی کافی حد تک مناسب ہی ہوتا ہے۔

مگر شام کی روشنی میں بیک کیمرے کو منظر کی تفصیلات یا رنگ واضح کرنے میں جدوجہد کا سامنا ہوتا ہے۔

جہاں تک ویڈیو کی بات ہے تو فور کے ریکارڈنگ تو ممکن نہیں بلکہ 1080p کا آپشن دیا گیا ہے، کیمرہ موڈ میں سلوموشن ویڈیو بھی ایک اچھا اضافہ ہے، جو عام طور پر فلیگ شپ فونز میں ہی نظر آتا ہے۔

فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

مجموعی طور پر اس فون کا کیمرہ بہت زیادہ اچھا تو قرار نہیں دیا جاسکتا، مگر روزمرہ کی تصاویر کے لیے بہترین ہے، جس میں متعدد موڈز اور فیچرز کیمرہ ایپ میں دائیں یا بائیں سوائپ کرنے پر دیکھے جاسکتے ہیں، جیسے ٹائم لیپس، اسکین وغیرہ۔

کمپنی نے اسے سیلفی سپراسٹار کا نام دیا ہے تو فرنٹ کیمرہ بھی اسی مناسبت سے بہتر ہے جو کہ 16 میگا پکسل کا ہے اور بہترین سیلفیز لینے میں مدد دیتا ہے، بلکہ کم روشنی میں بھی اس کا رزلٹ کافی اچھا ہے۔

ہیواوے نے صحیح معنوں میں اس فون میں سیلفی کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور فرنٹ کیمرہ لائٹ فیوژن ٹیکنالوجی کی بدولت زیادہ برائٹ اور صاف تصاویر ہر طرح کے موسم میں لے سکتا ہے۔

اپنی تصاویر میں صارفین اگیومینٹڈ رئیلٹی ٹیکنالوجی پر مبنی فیس فلٹرز، اسٹیکرز اور اینیمٹڈ گرافکس کا انتخاب کرسکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سوشل میڈیا فلٹرز سے ممکن ہوتا ہے، مگر ہیواوے کے اس فون میں وہ کچھ منفرد ہیں۔

اس میں دھندلا پس منظر کچھ اوور ایکسپوز نظر آتا ہے مگر سیلفی میں اس کی پروا کون کرتا ہے، جبکہ آپ اس کیمرے کے اے آر لینس موڈ میں جاکر تصاویر کو انسٹاگرام یا اسنیپ چیٹ جیسے فیس فلٹرز اور بیک گراﺅنڈ سے بھی سجا سکتے ہیں۔

نتیجہ
فوٹو بشکریہ ہیواوے
فوٹو بشکریہ ہیواوے

35 ہزار 999 روپے میں یہ ڈیوائس صارف کو مایوس نہیں کرتی، جس کی وجہ اس کا فلیگ شپ جیسا ڈیزائن اور مڈرینج کا ہونے کے باوجود اچھے فیچرز کی موجودگی ہے۔

اس کا پراسیسر ہیواوے کئی ڈیوائسز میں آزما چکی ہے اور ان کو لوگ پسند بھی کرتے ہیں، اسی طرح ریم اور اسٹوریج مناسب ہے جبکہ فور جی پلس، بلیوٹوتھ، وائی فائی اور دیگر سپورٹ صارف کو اسے استعمال کرتے ہوئے مایوس نہیں ہونے دیتے۔

بیشتر افراد کے لیے تو پی-20 لائٹ درحقیقت آئی فون ایکس ہی ہے، جسے ہر کوئی خرید نہیں سکتا (ایک لاکھ روپے سے مہنگا فون ہے) اور ڈیزائن کی حد تک تو ہیواوے کا فون یہ کمی پوری کردیتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ کچھ فیچرز کے لحاظ سے یہ مارکیٹ میں دستیاب سستے فونز میں کچھ کم ہو، مگر وہ فون آئی فون ایکس جیسے نظر نہیں آتے اور یہی وجہ ہے کہ اسے خریدنے پر مایوسی نہیں بلکہ خوشی ہی محسوس ہوگی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.