بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کے خواہشمند والدین خود پہل کریں

11

ایک نئے مضمون میں والدین پر زور دیا گیا ہے کہ جہاں بچوں کا الیکٹرانک آلات مثلاً فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ کا استعمال محدود کرنے کی ضرورت ہے، وہیں والدین کو بھی اسکرین کے سامنے گزارا گیا اپنا وقت کم کرنا چاہیے۔

جاما پیڈیاٹرکس نامی جریدے میں شامل ہونے والے اس تحقیقی مضمونمیں مصنفین نے بتایا ہے کہ بچے اسمارٹ فون کی عادت اپنے والدین سے سیکھتے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ اسمارٹ فونز سے کبھی کبھی دوری اختیار کی جائے، اور صرف ایک چیز کو اہمیت دی جائے، یعنی اپنے بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنا اور ہر چیز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی خواہش کو دبانا۔

یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلق رکھنے والی مضمون کی شریک مصنف ڈاکٹر جینی راڈیسکی لکھتی ہیں کہ ’اسمارٹ فونز والدین کی جیبوں میں موجود ذاتی کمپیوٹرز کی طرح ہیں جن میں ان کا کام، ان کی سماجی زندگی، ان کی تفریح، غرض یہ کہ ان کی زندگی کا پورا مواد اس میں موجود ہے۔‘

 

بچوں میں رویوں کی ماہر راڈیسکی نے اپنی تحقیق میں پایا ہے کہ وہ والدین جو ہر وقت اپنی موبائل ڈیوائسز میں مگن رہتے ہیں اور انہی کی جانب متوجہ رہتے ہیں، وہ اپنے بچوں کے ساتھ کم وقت گزار پاتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ تنازعات ہوتے ہیں اور انہیں بچوں کے زیادہ مشکل رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فوٹو: شٹر اسٹاک
فوٹو: شٹر اسٹاک

انہوں نے رائٹرز ہیلتھ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’جب میں نے اس حوالے سے تحقیق شروع کی تو میں نے پایا کہ وہ والدین جو زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کے بچے بھی زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں اور جب ٹی وی کو پس منظر میں چلتا چھوڑ دیا جائے، تو والدین اور بچے آپس میں کم بات کرتے ہیں اور کم کھیلتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک ملازمت پیشہ ماں کے طور پر مجھے معلوم ہے کہ کام کے حوالے سے کسی پیچیدہ مسئلے کے بارے میں سوچتے ہوئے، عالمی خبروں کے بارے میں تناؤ کا شکار ہوتے ہوئے یا پھر فون میں موجود کام یا سماجی زندگی پر جواب نہ دے پانے کے حوالے سے سوچتے ہوئے اپنے بچوں کو سنبھالنا کس قدر مشکل کام ہے۔‘

 

راڈیسکی اور ان کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میگن مورینو، جو یونیورسٹی آف وسکانسن سے تعلق رکھتی ہیں، تجویز دیتی ہیں کہ والدین کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر فون سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اسے اسٹریس دور کرنے والا آلہ سمجھنے کے بجائے گہری سانسیں لے کر واک کے لیے جانا چاہیے۔ گھر اور خاندان کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے فون کا سہارا لینے کے بجائے بامقصد انداز میں دوسروں کے ساتھ بات کرنی چاہیے اور مسائل کا سامنا کرنا چاہیے۔ وقت ضائع کرنے کے بجائے اس بات سے محتاط رہیں کہ کون سی چیز آپ کی توجہ بٹا رہی ہے۔ یہ نوٹ کریں کہ سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے یا ای میلز چیک کرتے ہوئے آپ کا کتنا وقت گزر چکا ہے۔

راڈیسکی کہتی ہیں کہ ملٹی ٹاسکنگ ہمیں ایک ساتھ کیے جانے والے تمام کاموں میں غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ بچوں کی پرورش اس سے مختلف نہیں ہے۔

ان کی یہ بھی تجویز ہے کہ والدین اس حوالے سے سوچیں کہ ان کے اسمارٹ فونز انہیں کس انداز میں سب سے زیادہ تناؤ پہنچاتے ہیں، مثلاً ای میلز چیک کرنا، خبریں پڑھنا وغیرہ اور پھر ان کاموں کو اس وقت سر انجام دیا جائے جب گھر کے افراد آس پاس موجود نہ ہوں۔

اس کے علاوہ والدین کو کھانے کے وقت، سونے کے وقت اور آرام کے خصوصی اوقات کو ترجیح دینی چاہیے جس میں گھر کے تمام افراد بس فونز ایک طرف رکھ کر ایک ساتھ ایک ہی کام کریں۔ چونکہ بچے اپنے والدین کے رویوں کی نقل کرتے ہیں، اس لیے اچھا رہے گا کہ آپ ایسے کام نہ کریں جنہیں بچوں کو نہیں سیکھنا چاہیے، مثلاً ڈرائیو کرتے ہوئے فون چیک کرنا، ناشائستہ مواد پوسٹ کرنا یا پھر فون استعمال کرتے ہوئے دوسرے لوگوں کو مکمل طور پر نظرانداز کر دینا۔

فوٹو: شٹر اسٹاک
فوٹو: شٹر اسٹاک

مصنفین کے مطابق ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ والدین نے بتایا کہ جب انہیں بجلی نہ ہونے یا فون خراب ہوجانے کی وجہ سے کچھ دن کے لیے فونز سے دور رہنا پڑا تو انہیں یہ محسوس کرکے کافی مزہ آیا کہ ان کا ذہن کتنا صاف ہوگیا تھا، کس طرح وہ ایک وقت میں ایک کام پر توجہ دینے لگے تھے اور ان کے لیے اپنے نوجوان بچوں کے ساتھ بات چیت کرنا کتنا آسان ہوگیا تھا۔

 

مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ہر چیز کی تصویر کھینچنے یا ہر لمحے کی داستان سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ والدین کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ لمحات کا مزہ اٹھانا چاہیے جس سے ٹیکنالوجی اور حقیقی زندگی میں ایک مناسب توازن آئے گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.