300 افراد کی سزائے موت کا مشاہدہ کرنے والی خاتون

70

ٹیکساس: یہ لازمی نہیں کہ دنیا کے ہر فرد نے کسی کی موت کے آخری لمحات دیکھے یا محسوس کیے ہوں، کئی افراد کے لیے اس کا تصور ہی خوفزدہ کردینے والا ہوگا، لیکن دنیا میں ایک ایسی خاتون بھی ہیں جنہوں نے 300 سے زائد افراد کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سیکڑوں اموات دیکھنے کے باوجود آج سے 18 سال قبل ہونے والی ’رکی میک جین‘ کی موت ’مشیل لائنز‘ کو آج بھی یاد آتی ہے جس کے بعد وہ رو دیتی ہیں اور ان کی نظروں کے سامنے رکی میک جین کی ماں کے جھریوں بھرے ہاتھ گھوم جاتے ہیں جو ڈیتھ چیمبر کے شیشے کی دیوار پر مضبوطی سے جمے تھے۔

شاید بہت ہی کم لوگوں کو اس بات کا اندازہ ہو کہ موت کو گلے لگانے سے قبل جسم سے نکلنے والی آخری آواز، آخری سانس کی آواز، حلق سے نکلنے والی آخری بڑبڑاہٹ کیسی ہوتی ہے؟ جس کے بعد روح کا جسم کے ساتھ سفر ختم ہوجاتا ہے۔

12 سال قبل ایک صحافی کی حیثیت سے اور پھر ٹیکساس ڈپارٹمنٹ آف کرمنل جسٹس کی ترجمان کی حیثیت سے مشیل لائنز کے فرائض میں شامل تھا کہ وہ ریاست کی جانب سے دی جانے والی ہر سزائے موت کا مشاہدہ کریں۔

واضح رہے امریکا میں سب سے زیادہ موت کی سزائیں ٹیکساس کی ریاست میں دی جاتی ہے، 1972 میں امریکی سپریم کورٹ نے سزائے موت پر پابندی عائد کردی تھی، تاہم ٹیکساس نے صرف 2 سال کے عرصے میں نہ صرف اس پر دوبارہ عمل درآمد شروع کردیا بلکہ اس ضمن میں زہر کے انجیکشن کا استعمال بھی متعارف کرادیا۔

خیال رہے کہ صرف سال 2000 میں ٹیکساس میں 40 افراد کو سزائے موت دی گئی جو ایک سال میں کسی بھی ریاست میں دی جانے والی سب سے زیادہ اور ریکارڈ موت کی سزائیں ہیں۔

دنیا بھر سے بہت سے افراد مشیل کو خط اور ای میل لکھ کر اس ظالمانہ ریاستی اقدام میں حصہ لینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں اور کبھی کبھی مشیل بھی جذبات میں آکر ان کا جواب دے دیتی ہیں۔

اس سلسلے میں اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے مشیل نے بتایا کہ پہلے پہل موت کا مشاہدہ کرنا اتنا آسان نہیں تھا لیکن ٹیکساس میں اس تواتر سے موت کی سزاؤں پر عمل درآمد ہونے لگا کہ اس کے بعد یہ سب دیکھنا ایک عام سی بات بن گئی۔

تاہم مشیل کی زندگی میں 2004 میں اس وقت بڑی تبدیلی آئی تھی جب ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی اور انہیں ماں کے احساسات کا اندازہ ہوا، ان کا بتانا ہے کہ حمل کے دوران وہ اس بات کے بارے میں فکر مند رہتی تھی کہ ڈیتھ چیمبر میں قیدیوں کی آخری چیخ و پکار، رحم اور معافی کی بلند آوازیں کہیں ان کے ہونے والے بچے پر برے اثرات مرتب نہ کردے۔

ان کا کہنا ہے کہ بیٹی کی پیدائش کے بعد جب بھی میں کسی کی موت کا مشاہدہ کرتی ہوں تو میرے خیال میں میری بیٹی ہوتی تھی جو میرے لیے میری دنیا ہے، اور دوسری جانب میرے سامنے روتی ہوئی وہ مائیں ہوتی تھیں جن کی اولاد موت کا شکار ہورہی ہوتی تھی۔

ان کا کہنا تھا میں سزائے موت کے مقام پر کھڑی بس ایک ہی بات سوچتی تھی کہ یہاں کوئی فاتح نہیں، ایک دن سب کو ختم ہوجانا ہے، سزائے موت ایک افسوسناک معاملہ ہے تاہم مجھے اس افسوسناک صورتحال کو بار بار دیکھنا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.