کانز میں اداکاراؤں و خواتین فلم پروڈیوسرز کا منفرد احتجاج

69

گزشتہ کافی وقت سے فلم انڈسٹری خصوصی طور پر ہولی وڈ میں مرد و خواتین کو یکساں مواقع اور ایک جیسا معاوضہ دینے کے حوالے سے مہم جاری ہے۔

ایک دن قبل ہی برطانوی اداکار بینڈکٹ کیمبر بیچ نے اعلان کیا تھا کہ وہ تب تک فلموں میں کام نہیں کریں گے، جب تک ان کے ساتھ کام کرنے والی اداکارہ کو بھی ان جتنا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔

اب اسی معاملے اور فلم انڈسٹری میں دیگر معاملات میں بھی خواتین کو نظر انداز کرنے اور ان کے ساتھ مناسب رویہ نہ اپنانے کے خلاف اداکاراؤں اور خاتون پروڈیوسرز و ڈائریکٹرز نے دنیا کے سب سے بڑے فیشن فلمی میلے ’کانز‘ کے ریڈ کارپٹ پر منفرد انداز میں احتجاج کیا۔

اداکاراؤں و خواتین فلم پروڈیوسرز نے احتجاج کے دوران رقص کرکے اسے نہ صرف منفرد بنایا، بلکہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں بھی کامیاب گئیں۔

کانز فلمی میلے کی 71 سالہ تاریخ میں خواتین کے مقابلے زیادہ مرد پروڈیوسرز و ڈائریکٹرز کی فلموں کی نمائش اور انہیں ایوارڈز دیے جانے سمیت کانز کی جیوری میں بھی خواتین کو نظر انداز کرنے کے خلاف دنیا بھر کی 82 سے زائد فلم پروڈیوسرز و اداکاراؤں نے منفرد انداز میں احتجاج کیا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ کے مطابق خواتین مارچ کا سربراہی اداکارہ کیٹ بلینشٹ نے کی، جو اس وقت کانز کی جیوری کی صدارت بھی کر رہی ہیں۔

ان کے ساتھ احتجاج کرنے والی دیگر نامور اداکاراؤں میں سلمیٰ ہائیک، کرسٹین اسٹیورٹ، جون فونڈا، میرین کوٹیلارڈ، پیٹی جینکنس، صوفیہ بوٹیلا، بھارتی اداکارہ نندیتا داس اور راسیکا ڈگل سمیت دیگر پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز و اداکارائیں شامل تھیں۔

خواتین نے ایسے موقع پر احتجاج کیا جب فرانسیسی فلم ’گرلز آف دی سن‘ کا پریمیئر ہونے والا تھا۔

اس فلم کی ہدایات فرانسیسی خاتون فلم ساز ایوا ہوسن نے دی ہیں، جب کہ اس میں اداکاری کے جوہر ایرانی اداکارہ گولشفتھ فرحانی اور ایمانوئل بیرکوٹ نے دکھائے ہیں۔

اس فلم کی کہانی کرد جنگجو خواتین کے گرد گھومتی ہے۔

فلم کے پریمیئر سے قبل ہونے والے احتجاج میں فلم کی ہدایت کار وہ کاسٹ سمیت دنیا بھر سے آئی اداکاراؤں نے بھی حصہ لیا۔

احتجاج کے دوران اپنے خطاب میں کیٹ بلینشٹ کا کہنا تھا کہ کانز کی 71 سالہ تاریخ میں اب تک صرف 82 خواتین پروڈیوسرز و اداکاراؤں کی فلموں کو اس میلے میں دکھایا گیا اور ان میں سے بہت ہی کم کو اعلیٰ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے کے دوران 1866 مرد پروڈیوسرز و ہدایت کاروں کی فلموں کو کانز میلے میں پیش کیا گیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانز انتظامیہ کی جانب سے دیے جانے والے سب سے اعلیٰ ایوارڈ کے لیے بھی آج تک صرف 2 خواتین کو منتخب کیا گیا۔

—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی
—فوٹو: اے ایف پی

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.