Mashriq Newspaper

انسداد سمگلنگ مہم کے دوران کسٹم نے 35 ارب روپے مالیت کی اشیاءقبضے میں لیں

کوئٹہ (سٹی رپورٹر) کلیکٹر کسٹمز کوئٹہ محمد اسماعیل نے کہا ہے کہ انسداد سمگلنگ کی مہم کے دوران کسٹم نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ کارروائیوں میں یوریا8767 میٹرک ٹن ، چینی 11 ہزار 9 سو میٹرک ٹن ، آٹا 160 میٹرک ٹن برآمد کرکے قبضے میں لیا ہے جس کی مالیت 35 ارب روپے سے زائد بنتی ہے یہ سامان انتظامیہ کے تعاون سے اتوار سستے بازار میں عوام کو براہ راست فروخت کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنے دفتر میں ایڈیشنل کلیکٹر عمر شفیق ، ڈپٹی کلیکٹر کوئٹہ عبدالمعید کانجو ، اسسٹنٹ کلیکٹر حسیب احمد، اسسٹنٹ کلیکٹر محمد سلیم، سپرنٹنڈنٹ آپریشن احد درانی اور سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عطائ محمد بڑیچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ کلیکٹر کسٹمز کوئٹہ محمد اسماعیل کا کہنا تھا کہ انسداد سمگلنگ مہم ایف بی آر کی خصوصی ہدایت پر ممبر کسٹمز آپریشن میڈم زیبائ حئی اظہر کے احکامات پر چیف کلیکٹرکسٹمز بلوچستان عبدالقادر میمن کی سربراہی میں شروع کی جس میں فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تعاون کررہے ہیں۔امسال جنوری سے لیکر ماہ اکتوبر تک کسٹم نے 8ہزار 7سو 67میٹرک ٹن یوریا ، 11ہزار 9 سو میٹرک ٹن چینی 160 میٹرک ٹن آٹا قبضے میں لیا ہے کارروائیوں میں اس کے علاوہ کوکنگ آئل، کمبل، بسکٹ ، کھانے پینے کا سامان، ڈرائی فروٹ اور دیگر سامان قبضے میں لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کمانڈر 12 کور کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ ان کارروائیوں میں قبضے میں لیا جانے والا سامان سر عام نیلامی کی بجائے ضلعی انتظامیہ اور حکومت کے تعاون سے اتوار سستے بازاروں میں براہ راست شہریوں کو فروخت کریں گے جو بھی سستا بازار لگایا جائے گا۔ اس میں کسٹم کا اسٹال ہوگا جس میں یہ تمام سامان عوام کو فروخت کرنے کے لئے رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مہم کے دوران جولائی سے اب تک گزشتہ 4 ماہ میں 3.6ارب روپے مالیت کے کیسز کئے ہیں۔ان کارروائیوں کی وجہ سے سمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملنے کے ساتھ ساتھ قانونی تجارت میں اضافہ ہوا ہے۔ 8.6 ارب روپے کے کیسز کئے گئے ہیں۔ اس طرح ان کارروائیوں کے بعد قانونی تجارت میں 5 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس 4 ماہ میں 21 ارب روپے کے کیسز کئے گئے تھے۔ اس سال 35.5 ارب روپے کے کیسز کئے ہیں اور مجموعی طور پر 13 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے اس کے علاوہ ڈیزل اور پیٹرول کی روک تھام سے ریونیو میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئٹہ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو این او سی دینے اور بارڈر ٹریڈ میں لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے کوئی فیصلہ نہیں ہوا یہ صوبائی حکومت کا مینڈیٹ ہے وہ جو فیصلہ کرے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انسداد سمگلنگ کی مہم کی وجہ سے قانونی تجارت میں اضافہ ہوا ہے اس لئے تفتان میں الگ کلیکٹریٹ قائم کیا ہے دکانوں ، گا ڑیوں اور گوداموں میں چھاپوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خفیہ معلومات پر قانونی جی ڈی اور دیگر کاغذات کی آڑ میں گاڑیوں میں سمگلنگ کی جاتی ہے ایسی گاڑیوں کو روک کر چیک کرتے ہیں اور گوداموں ، دکانوں میں غیر قانونی پڑے ہوئے سامان پر کسٹم کو چھاپہ مارنے کی اجازت ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.