Mashriq Newspaper

پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کےلیے گول میز کانفرنس بلائی جائے : محمود خان اچکزئی

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے دوستوں کو کہا تھا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دشمنی میں حد سے آگے نہ جائیں۔

کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ ملک میں تین سال بعد وزیراعظم کو جیل بھیج دیا جاتا ہے، میں نے پی ڈی ایم کے دوستوں کو کہا آپ لوگ کھائی میں گر رہے ہو۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نواز شریف کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات کرنے کی سزا دی گئی۔ دنیا بھر کے ممالک ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بنا رہے ہیں، نواز شریف آئین کے ساتھ کھڑا رہا ہے، جب تک میاں نواز شریف جمہوریت کے راستے پر رہیں گے ہم اُن کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، ملک بحران میں ہے، سب کو مل کر پاکستان کو بچانا ہے، پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کےلیے گول میز کانفرنس بلائی جائے۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ پاکستان ہمارا گھر ہے، ملک کو دیمک لگ چکا ہے، آئین کی بالادستی اور منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سر چشمہ ہونا چاہیے، تجارت بڑھانے سے معیشت بہتر ہوگی عوام کو روزگار ملے گا۔

چیئرمین پی کے میپ نے کہا کہ انڈیپینڈنٹ ایکٹ میں پاکستان کی حدود کا تعین کیا گیا ہے، فاٹا سے متعلق آئین سے آرٹیکل نکالنے کا فائدہ بھارت نے اٹھایا، بھارت نے اپنے آئین سے کشمیر سے متعلق آرٹیکل نکال دیا، ہمیں دو طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، سرحد پار سے حملے ہوتے ہیں، دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی را ملوث ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارتی ریاستی دہشت گردی پاکستان کے علاوہ کینیڈا تک پہنچ چکی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ ہم نے چالیس سال غیر ملکیوں کی میزبانی کی ہے، غیر قانونی غیر ملکیوں کو دی گئی سہولتیں افغانستان میں بھی نہیں مل سکتیں۔ ہماری مصلحتوں نے ملک کو تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پشتونوں نے ملکی آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔

اپنے سیاسی فیصلوں پر بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میری پارٹی میری بات مانتی تو ہم انتخابات میں حصہ نہیں لیتے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پوری قوم پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.