Mashriq Newspaper

ٹیم کا ہوٹل تبدیل کریں ! چیئرمین پی سی بی کا آئی سی سی کو دو ٹوک پیغام

بھارت کو نیویارک اسٹیڈیم کے قریب ہوٹل کا قیام کروانے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی آئی سی سی دوٹوک پیغام دے دیا۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے پاکستانی ٹیم ہوٹل تبدیل کروادیا، قومی ٹیم کو جس ہوٹل میں قیام کرنا تھا وہ اسٹیڈیم سے 90 منٹ دور تھا، تبدیل شدہ ہوٹل اسٹیڈیم سے 5 منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔

محسن نقوی نے آئی سی سی کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہماری ٹیم ٹی20 ورلڈکپ کے کسی بھی میچ کیلئے طویل فاصلہ طے نہیں کرے گی، اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستانی ٹیم کا ہوٹل تبدیل نہ کیا تو پی سی بی اپنے خرچے پر ٹیم کو بہتر اور آسان جگہ پر منتقل کردے گا۔

پی سی بی ذرائع کہنا ہے کہ محسن نقوی نے آئی سی سی پر واضح کیا ہے کہ قومی ٹیم ان کی ذمہ داری ہے اور وہ کھلاڑیوں کے آرام کو ہر صورت یقینی بنائیں گے۔

نیویارک میں پاکستانی ٹیم کو 9 جون کو بھارت کیخلاف جبکہ 11 جون کینیڈا کیخلاف مدمقابل آنا ہے۔

قبل ازیں سری لنکن ٹی20 ورلڈکپ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے بھارت کو سہولیات مہیا کرنے پر دیگر ٹیموں نے اعتراض اٹھایا تھا۔

سری لنکا، جنوبی افریقا اور آئرلیںڈ کی ٹیموں نے امریکا میں سفری رکاوٹوں اور انفرا اسٹرکچر کے ناقص نظام پر آئی سی سی کو شکایت درج کرواتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی ریاست فلوریڈا سے نیویارک سفر کے دوران سری لنکا اور آئرش ٹیم کے کھلاڑیوں کی چارٹر فلائٹ 7 گھنٹے تاخیر سے پہنچی جس پر انہیں کوئی اَپ ڈیٹ فراہم نہیں کی گئی۔

دوسری جانب سری لنکن ٹیم کے کپتان وینندو ہسرنگا اور کھلاڑی مہیش تھیکشنا نے جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں شکست کے بعد پریزنٹیشن میں ٹی20 ورلڈکپ شیڈول کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

اس حوالے سے مہیش تھیکشانا نے کہا کہ یہ سب بہت غیر منصفانہ ہے ہر میچ کے بعد ہمیں سفر کرنا پڑرہا ہے، ہمیں فلائٹس کے لیے 8 گھنٹے انتظار بھی کرنا پڑا جبکہ ٹریول لاجسٹک کی وجہ سے ہمیں نیویارک میں ٹریننگ سیشن بھی منسوخ کیا، ہمارا ہوٹل وینیو سے ایک گھنٹہ 40 منٹ کی مسافت پر تھا، ہمیں صبح 5 بجے اٹھنا پڑا، میں نام نہیں لوں گا لیکن کچھ ٹیموں کے ہوٹل 14 منٹ دور ہیں جبکہ کچھ ٹیمیں ایک وینیوز پر تمام میچز کھیل رہی ہیں جو کہ ناانصافی ہے۔

کپتان وانندو ہسارنگا نے کہا کہ ہمارے لیے مشکل دن ہیں، 4 میچز 4 مختلف وینیوز جو کہ مشکل ہے، ہمیں کنڈیشنز کے بارے میں کوئی علم نہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.