Mashriq Newspaper

نواز شریف کی 15 سال بعد چوہدری شجاعت سے ملاقات، دونوں جماعتوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں الیکشن کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف 2009 میں چوہدری شجاعت کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔

نواز شریف بدھ کے روز تقریباً 15سال بعد چوہدری شجاعت سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ شہباز شریف، مریم نواز ، رانا ثنااللہ، ایاز صادق اور اعظم نذیر تارڑ موجود تھے جب کہ چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے ملاقات میں چوہدری سالک حسین، چوہدری شافع حسین ، چوہدری وجاہت اور طارق بشیر چیمہ شریک ہوئے۔

نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کے درمیان ملاقات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور آئندہ انتخابات سے متعلق مشاورت کی گئی جب کہ اس دوران چوہدری شجاعت نے مطالبہ کیا کہ جن سیٹوں سے ہمارے لوگ جیتے تھے نہ صرف وہ ہمیں دی جائیں بلکہ گجرات، سیالکوٹ، منڈی بہاؤ الدین اور حافظ آباد میں بھی سیٹیں دی جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ (ن) لیگ اور (ق) لیگ کے درمیان پنجاب اسمبلی کی تین اور  قومی اسمبلی کی 2 نشستوں پر مشاورت مکمل ہوچکی ہے، (ن) لیگ طارق بشیر چیمہ کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔

ذرائع کے مطابق چکوال سے سابق رکن قومی اسمبلی رہنے والے چوہدری سالک کی سیٹ پر بھی ایڈجسٹمنٹ ہوچکی ہے جب کہ چوہدری شافع گجرات سے الیکشن لڑیں گے تاہم ملاقات میں موجود چوہدری وجاہت کے بیٹے اور سابق رکن قومی اسمبلی حسین الٰہی کی سیٹ پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی، دونوں طرف سے اس پر بعد میں مشاورت پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں طے پایا کہ دیگر 2 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر جو نام چوہدری شجاعت دیں گے اس کی سیٹ کنفرم ہوگی، اس کےلیے چوہدری شجاعت نے دونوں بیٹوں کا نام دیا ہے ان کے مقابلے میں (ن) لیگ کوئی امیدوار کھڑا نہیں کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر چوہدری سالک قومی اسبملی کا الیکشن لڑیں گے تو ان کے نیچے 2 صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار  (ن) لیگ کے ہوں گے جب کہ طارق بشیر چیمہ کے نیچے 2 صوبائی اسمبلیوں پر  بھی (ن) لیگ کے امیدوار ہوں گے۔

نواز شریف اور چوہدری شجاعت کے درمیان ملاقات کے بعد (ن) لیگ کا وفد میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہوگیا جب کہ (ق) لیگ کی جانب سے بھی میڈیا سے کسی نے بات نہیں کی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.