Mashriq Newspaper

غزہ جنگ کے بعد یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات بڑھ گئے، یورپی یونین

یورپی یونین کی نمائندہ نے  کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کےتناظر میں یورپ  میں اسلامو فوبیا  کے واقعات اور مسلم مخالف جذبات  کے ساتھ یہودیوں پر تنقید میں اضافہ ہورہا  ہے۔ 

الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی جانب  سے اسلام مخالف جذبات ( اسلاموفوبیا )  کے تدارک کے لیے مقررکردہ میریئن  لالیسی نے بتایا کہ  ہم مسلم مخالف جذبات اور یہود مخالف بیانیوں میں تیزی سے اضافے کا رجحان دیکھ رہے ہیں۔

میریئن لالیسی کا کہنا تھا کہ یہ رجحان زیادہ تر سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا ہے جہاں ڈھکے چھپے الفاظ سے لے کر کھلم کھلا انداز میں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ  بالخصوص مسلمانوں کے خلاف  نفرت میں اضافے کی بنیاد ان  کے بارے میں پایا جانےو الا پرتشدد قوم کا منفی تصور ہے اور یہ تصور یورپی اقوام میں پھیلایا گیا ہے۔

یورپی  یونین کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تحقیق  کرنے کی ضرورت ہے  کہ  یورپی باشندوں کو  اسلام اور مسلمانوں کے بارے  میں کس طریقے سے  تعلیم  دی جاری ہے۔

میریئن لالیسی نے بتایا کہ ہم مسلم مخالف جذبات کا تدارک  ان پروجیکٹس کی فنڈنگ کے ذریعے کررہے ہیں جو ماضی اور حال کا موازنہ کرتے اور  اس  امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ اسکول اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی  تاریخ کی کتابیں مسلمانوں کو  کس  انداز سے پیش کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے  حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں 1400  سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ  10  ہزار سے زائد فلسطینی باشندے شہید  ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد  خواتین اور بچوں کی بھی ہے۔

اسرائیل دانستہ طور پر  غزہ  میں شہری آبادی کو نشانہ بنارہا  ہے۔

ہیومن رائٹس  واچ کے مطابق بیشتر یورپی ممالک میں یہودیوں کے خلاف جرائم کے واقعات  کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، تاہم برطانیہ کے سوا  دیگر یورپی ممالک نے  کبھی مسلمانوں کے خلاف  نفرت انگیز  واقعات  کےا عدادوشمار  شائع  نہیں کیےجن میں 7 اکتوبر کے بعد سے بالخصوص اضافہ ہوا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  یہ ممالک مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کو ریکارڈ نہیں کرتے۔

میریئن  لالیسی کے مطابق جو کچھ یورپ میں ہورہا ہے ہمیں اس  کے بارے میں ایک متوازن بیانیے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ  یورپ میں لوگ  مذہبی عقائد سے قطع نظر  آزادانہ طور پر رہ سکیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.