Mashriq Newspaper

وزیراعظم کا ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں تعلیم کے فروغ کیلئے تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا۔

بدھ کو شعبہ تعلیم سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی، پاکستانی قوم عزم و حوصلہ سے کسی بھی چیلنج پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے، ملک میں تعلیم کے شعبہ کی خود نگرانی کروں گا، ہم یکسو ہو کر چلیں تو پاکستان ہر شعبے میں اپنا نام پیدا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اور بچیاں سکول سے باہر ہیں جن کا اسکولوں میں اندراج کرایا جائے گا، تعلیم کے فروغ کیلئے مالی وسائل کی فراہمی سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن جب عزم پختہ ہو تو چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ  2008ء سے 2018ء کے درمیان ہم نے پنجاب میں تعلیم کے شعبہ کی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے، اس کے ساتھ ساتھ دانش اسکولوں میں غریب طلباء کو اعلیٰ معیار کی تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی فراہمی کا چیلنج مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، میں ملک میں تعلیم کے شعبہ کی خود نگرانی کروں گا اور یہ 2 کروڑ 60 لاکھ بچے جو سکول سے باہر ہیں بہت جلد اسکولوں میں ہوں گے، اس کیلئے ملک بھر میں تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کرتا ہوں، میں چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ سے بھی ملوں گا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرتعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ فور ی توجہ کا متقاضی ہے، 2 کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں، اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو اسکول سے باہر ہونا تشویش کی بات ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ اےفاضل نے کہاکہ وزیراعظم کی طرف سے تعلیم کے اہم شعبے پر توجہ مرکوز کرناباعث اطمینان ہے۔ جی ڈی پی میں تعلیم کاحصہ انتہائی کم ہے۔ تعلیم کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہاکہ پاکستان میں اسکول نہ جانے والے بچوں کو تعلیم کی فراہمی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا فوری اقدامات کے ذریعے سکولوں میں بچوں کے اندراج کی شرح بڑھانا ہوگی۔ برطانیہ تعلیم کے شعبے کی ترقی کےلئے پاکستان کی بھرپور معاونت کرےگا۔ تعلیم سے متعلق 2030 کےعالمی اہداف کے حصول کو یقینی بناناہو گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.