Mashriq Newspaper

چینی وفد کا پاکستانی فٹ ویئر انڈسٹری میں 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان

چائنیز فٹ ویئر انڈسٹری کے وفد نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان لاہور آفس کا دورہ کیا، ڈی جی ٹی ڈی اے پی رافعہ سید نے حکومت کی جانب سے چینی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر چینی وفد نے پاکستانی فٹ ویئر انڈسٹری میں 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا۔

گوانگ ڈونگ شو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور گوانگ ڈونگ شو میٹریلز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان لاہور محترمہ رافعہ سید سے ملاقات کی۔

پی ایف ایم اے کے چیئرمین منصور احسان اور سیکرٹری جنرل پی ایف ایم اے احمد فواد بھی وفد کے ہمراہ تھے، پاکستان فٹ ویئر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے چینی وفد کو لاہور اور شیخوپورہ میں جوتے کی مختلف فیکٹریوں کا دورہ کرایا جہاں چینی وفد نے پاکستانی فٹ ویئر بزنس کمیونٹی کے ساتھ نتیجہ خیز ملاقاتیں بھی کیں۔

دوروں اور ملاقاتوں کا مقصد چینی وفد کو پاکستانی جوتے کی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے آگاہی فراہم کرنا تھا جس سے سرمایہ کاری کے درست اہداف کی نشاندہی ہو سکے۔

اس موقع پر چینی وفد نے پاکستان فٹ ویئر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط بھی کئے جس کے مطابق پہلے مرحلے میں چینی پاکستانی جوتے کی صنعت میں 2 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا جبکہ دوسرے مرحلہ میں 20 ارب روپے مالیت کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ڈائریکٹر جنرل رافعہ سید نے وفد کے ارکان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات اور ٹی ڈی اے پی کے کردار سے آگاہ کیا، انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان میں جوتے کا شعبہ ملک کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا ایک اہم جزو ہے، جو برآمدات، روزگار اور اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں جوتے کا ساتواں سب سے بڑا صارف ہے اور ملک میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔

ڈی جی ٹی ڈی اے پی رافعہ سید نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کا دورہ کرنے پر وفد کے اراکین کا شکریہ ادا کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ پورے اعتماد اور اُمید کے ساتھ پاکستانی فٹ ویئر کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.