Mashriq Newspaper

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی چینی صدر سے ملاقات ؛ رپورٹ

 پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر اور چین کے صدر شی جنپنگ کے درمیان اہم ملاقات پاکستان کے اعلیٰ سطح کے ایک وفد کے بیجنگ دورے کے اختتام پر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کو چین کے صدر شی جنپنگ سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف بھی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ چین کے دورے میں پاکستانی وفد میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور دیگر شامل تھے۔

چینی کمپنیوں کے ساتھ تجارت اور بزنس کی نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے وفد کے ہمراہ پاکستان کے نامور تاجر بھی تھے۔ جنھوں نے دو طرفہ تجارت کے لیے دوست ملک کی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔

بیجنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور چینی وزیر اعظم لی کیانگ کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقاتوں میں باہمی اعتماد، مشترکہ اصولوں اور اسٹریٹجک گورننس پر قائم مضبوط پاک چین اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے بقول دونوں ممالک نے مختلف امور پر ایک دوسرے کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کو آگے بڑھانے اور جاری منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

وزیر اعظم شہباز نے ملاقات کے دوران خصوصی طور پر سی پیک پروجیکٹس کو محفوظ تر بنانے، پاکستان میں چینی عملے اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مزید برآں، دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح پر مذاکرات اور بات چیت کو برقرار رکھنے، تمام شعبوں میں ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے، دو طرفہ اور عالمی امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یاد رہے کہ اس دورے کے دوران پاکستان اور چین نے 23 مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے جن کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔

اسلام آباد میں دستخط کیے گئے مفاہمت کی یادداشتوں میں ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر، صنعت، توانائی، زراعت، میڈیا، صحت، پانی کا انتظام، سماجی اقتصادی ترقی اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبے شامل تھے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.