Mashriq Newspaper

چمن: 4 روز سے جاری پرتشدد احتجاج، مظاہرین، فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حالات معمول پر آنا شروع

چمن میں 4 روز سے جاری پرتشدد مظاہروں، مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد ہفتے کے روز حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے جب کہ احتجاج کے دوران متعدد افراد گرفتار کیے گئے اور دونوں جانب سے کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اگرچہ مظاہرین نے پاکستان-افغانستان سرحد کے قریب چمن-قندھار ہائی وے پر اپنا دھرنا جاری رکھا، تاہم دن بھر کسی قسم کے پرتشدد واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے اتحاد کی جانب سے جاری مظاہرے کے شرکا ایف سی ہیڈ کوارٹر کے قریب بڑی تعداد میں جمع ہوئے جہاں وہ گزشتہ 8 ماہ سے مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا ’مال روڈ پر کوئی احتجاجی ریلی یا کہیں بھی روڈ بند نہیں ہوا، گزشتہ 3 روز سے بند دکانیں اور مارکیٹیں بھی کھل گئی ہیں۔

 

سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ اور چمن کے درمیان ٹرین سروس معطل رہی۔

کوئٹہ چمن شاہراہ کھلی گئی، ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں رہی اور درآمدی و برآمدی سامان لے کر ٹرک چمن پہنچ گئے۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے دعویٰ کیا کہ کچھ عناصر افغانستان سے چمن میں بے امنی کو ہوا دے رہے ہیں۔

ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی کو بھی ریاستی عملداری چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزیر داخلہ نے افغانستان میں 18 بھارتی قونصل خانے کھولے جانے کو بلوچستان سمیت پاکستان کے دوسرے حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں سہولت کاری قرار دیتے ہوئے بے امنی میں بھارت کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.