Mashriq Newspaper

قلات ، انتخابات 2024 ءکی سیاسی گہما گہمی عروج پر

قلات (آن لائن) انتخابات 2024 کیلئے سیاسی گہما گہمی عروج پر، قومی و صوبائی نشستوں پر متعدد امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلے کی توقع، تفصیلات کے مطابق نیشنل اسمبلی 261 قلات مستونگ کم سوراب کی نشست پر بڑی سیاسی پارٹیوں کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع ہیں اس پر اب تک 51 امیدواران میدان میں ہیں جبکہ پی بی 36 پر 41 امیدواروں نے کاغذات جمع کی گئی ہے جبکہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کارنر میٹنگز اور آزاد امیدواروں کے ساتھ بیھٹک جاری جبکہ تعزیت و فاتحہ خوانی کا سلسلہ بھی جاری ہے قلات کے قومی نشست پر این اے 261 سے سابق وزیراعلی بلوچستان پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چیف آف جھالاوان نواب ثنا اللہ خان زہری بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر جان مینگل جمیعت علما اسلام کے مرکزی جزل سیکرٹری سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر سینٹر ریٹائرڈ میر کبیر جان محمد شہی بی این پی عوامی کے مرکزی صدر سینیٹر ریٹائرڈ میر اسراراللہ خان زہری سابق صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی سردار زادہ میر منیر احمد نیچاری و دیگر امیدواروں کے درمیان 8 فروری کو کانٹے دار مقابلہ ہوگا جبکہ مسلم لیگ کے میر عطا اللہ لانگو عوامی سیاسی اتحاد کے میر زکریا جتک جمیعت علما اسلام نظریاتی کے میر مبارک خان محمد حسنی میر سمیع اللہ لانگو سردار سخی سمالانی میر صدام لہڑی نوید الزمان جمیعت علما پاکستان کے محمد عیسی اور کئی آزاد امیدوار میدان میں اتر گئے ہیں قلات کے ووٹرز نے اس بار ایسے مخلص شخص کا انتخاب کرنا چاہتے ہیکہ انہیں کئی سالوں سے مکمل نظر انداز کیا گیا ہے مگر اس پر سیاسی ووٹ نہیں شخصیت کی ووٹ اہمیت کے حامل ہے اس کے علاوہ پی بی 36 میں بڑی سیاسی پارٹیاں جن میں سخت مقابلہ جمیعت علما اسلام کے سردار زادہ میر سعید جان لانگو پاکستان پیپلز پارٹی کے سردار زادہ نعیم جان دہوار بلوچستان عوامی پارٹی کے میر ضیااللہ لانگو بی این پی کے میر قادر بخش مینگل نیشنل پارٹی کے میر یعقوب لانگو پاکستان مسلم لیگ کے ایڈوکیٹ میر عطا اللہ لانگو آزاد امیدوار سردار زادہ میر سمیع لانگو مولوی یونس لہڑی میر تنویر لانگو اور دیگر پارٹیوں کے امیدوار اور آزاد امیدواران میدان میں ہیں اس نشست پر بھی سخت اور کانٹے دار مقابلہ ہونے جارہا ہے جبکہ دراصل ابھی سیاسی پارٹیوں میں ٹکٹس تقسیم ہونے کے بعد مختلف پارٹیوں میں ناراضگیاں پیدا ہوئی ہے اور کچھ دنوں بعد اصل حقیقت معلوم ہوگی لیکن اس سخت سردی میں الیکشن کمپین جاری و ساری ہے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.