Mashriq Newspaper

حماس کو اپنے 50 ہزار ملازمین اور اپنے خرچ کے لیے فنڈز کہاں سے ملتے ہیں؟

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کون سے ممالک یا تنظیمیں حماس کے سپانسر ہیں اور اس بڑی اسلامی تنظیم کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے؟

آخر کس بل بوتے پر اس تنظیم کا تقریبا دو دہائیوں سے غزہ پر کنٹرول ہے؟

اس سے دو سال قبل 11 دنوں تک جاری رہنے والے اسرائیل کے ساتھ اپنے آخری تنازعے میں حماس نے 4 ہزار راکٹ فائر کیے تھے لیکن رواں سال سات اکتوبر کے حملے میں اس نے صرف ایک دن میں کئی ہزار راکٹ فائر کیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پاس اب بھی راکٹوں کا بڑا انبار ہے۔

عسکری اخراجات کے علاوہ غزہ پٹی کے تقریباً 50 ہزار ملازمین کی تنخواہوں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو حماس کے حکام کے مطابق 30 ملین ڈالر ماہانہ سے زیادہ ہیں۔

اس کے علاوہ حماس ان لوگوں کو بھی مالی امداد فراہم کرتی ہے جنھوں نے مختلف تنازعات میں اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا ہے یا زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ حماس اپنے گروپ کے کچھ افراد کے لیے پانی، بجلی اور یہاں تک کہ ان کے گھر کا کرایہ بھی ادا کرتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ حکومت کا سالانہ بجٹ 700 ملین ڈالر سے زائد ہے جس میں سے 260 ملین ڈالر موجودہ اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

حماس اور غزہ پٹی میں قائم حکومت کی مالی اعانت چار طریقوں سے ہوتی ہے۔ کچھ تو دوسری حکومتوں کی مدد سے ان کی امداد ہوتی ہے، شہریوں اور خیراتی اداروں سے انھیں تعاون ملتا ہے۔ کرپٹو کرنسی مارکٹ میں کام کر کے کچھ پیسے حاصل ہوتے ہیں اور مختلف ممالک میں سرمایہ کاری سے بھی انھیں پیسے آتے ہیں۔

اسماعیل ہنیہ

حماس کی حمایت کرنے والے ممالک

یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، قطر، کویت، ترکی، سعودی عرب، الجزائر، سوڈان اور متحدہ عرب امارات حماس کے مالی اور سیاسی حمایتی ہیں۔

حماس کے اہم ترین مالی اور سیاسی حامیوں میں سے ایک قطر ہے۔

فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹیجک افیئرز (آئی آر آئی ایس) کے نائب صدر دیدیدہ بیلیون نے حال ہی میں کہا کہ قطریوں کی طرف سے عوامی طور پر انھیں ماہانہ 30 ملین ڈالر کی امداد ملتی ہے۔

ان کے مطابق یہ عطیات غزہ پٹی میں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ہیں۔

البتہ حال ہی میں موسم گرما کے وسط میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ قطری امداد کی آمد میں تاخیر کی وجہ سے حماس اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہے۔

فرانسیسی اخبار لبریشن نے سنہ 2018 میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ قطر کی مالی امداد ’غزہ میں ایک بڑے انسانی بحران‘ کو روکنے کے لیے سنہ 2014 میں شروع ہوئی۔ اسی وجہ سے قطر حماس کو اپنی مالی امداد اسرائیل کے ذریعے پہنچاتا ہے اور یہ کوئی خفیہ معاملہ نہیں ہے۔

قطر حماس کے اہم ترین سیاسی حامیوں میں سے ایک ہے۔

حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ 2012 سے دوحہ میں مقیم ہیں۔ اور اس اسلامی گروپ کا سیاسی دفتر قطر کے دارالحکومت میں واقع ہے۔

’واشنگٹن سینٹر فار عرب اسٹڈیز‘ کے مطابق دوحہ نے 2012 سے 2022 تک غزہ کے لیے تقریباً 1.3 بلین ڈالر کا تعاون کیا ہے۔

اس ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے ممالک نے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) اور محمود عباس کی حکومت کو دو ارب ڈالر، الجزائر نے 908 ملین ڈالر، کویت نے 758 ملین ڈالر اور سعودی عرب نے چار ارب 766 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں اور مغربی کنارے نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس میں سے غزہ پٹی کو اس کا حصہ فراہم کرے گا اور اس نے اپنے وعدے پر اب تک عمل بھی کیا ہے۔

حماس

مصری حکومت اور حماس کے درمیان تعلقات کچھ مختلف

فلسطین میں حماس کی ابتدا اخوان المسلمون کی شاخ کے طور پر ہوئی تھی۔ اخوان المسلمون ایک اسلامی تنظیم ہے اور اس کی بنیاد مصر میں سنہ 1928 میں رکھی گئی تھی۔

مصر کے غزہ پٹی کے ساتھ قریبی تعلقات رہے ہیں لیکن عبدالفتاح السیسی کے مصر میں برسراقتدار آنے کے بعد یعنی سنہ 2013 کے بعد سے مصر میں مقیم فلسطینی گروپوں کے درمیان تعلقات کمزور ہو گئے ہیں۔

حماس کے لیے مصر ایک اہم کراسنگ پوائنٹ ہے۔ خوراک اور سامان کی سب سے بڑی مقدار مصر کے راستے غزہ کی پٹی تک پہنچائی جاتی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز کے مطابق سنہ 2021 میں حماس نے مصر اور مغربی کنارے سے آنے والی اشیا سے 12 ملین ڈالر سے زائد ٹیکس وصول کیا ہے۔

مصر کی طرح ترکی بھی حماس کا سیاسی حمایتی ہے تاہم ترکی کی طرف سے حماس کو مالی امداد دینے کے زیادہ شواہد نہیں ہیں۔

پھر بھی اسرائیلی میڈیا ہاریتز کے خیال میں ترکی حماس کو شاید سالانہ 300 ملین امریکی ڈالر کا تعاون دیتا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی حکام نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ ترکی سے غزہ کے لیے 16 ٹن دھماکہ خیز مواد بھیجا گیا تھا جسے ضبط کرلیا گیا۔

لیکن حماس کا سب سے اہم اتحادی اور عسکری و مالی حامی ایران ہے۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے حال ہی میں کہا: ’ہم نے شروع سے کہا ہے کہ ایران وسیع معنوں میں حماس کا ساتھی ہے کیونکہ اس نے حماس کے عسکری ونگ کے لیے زیادہ تر فنڈنگ فراہم کی ہے۔ انھوں نے انھیں تربیت دی ہے اور عسکری صلاحیتیں فراہم کی ہیں!

جبکہ یورپی کمیشن کے سربراہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ حماس گروپ کا 93 فیصد گولہ بارود ایران سے آتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی حماس کو مالی امداد کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق ایران حماس کو سالانہ 100 ملین ڈالر فراہم کرتا ہے۔

خیرات
 

خیراتی اداروں کے ذریعے فنڈنگ

حماس کی فنڈنگ کا اہم ترین ذریعہ مختلف ممالک، گروہوں اور خیراتی اداروں میں عام لوگوں کی طرف سے عطیات ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ فروری میں اعلان کیا تھا کہ حماس کو خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں، دیگر تارکین وطن اور فلسطینی خیراتی اداروں سے مالی امداد ملتی ہیں۔

روس کی سپوتنک نیوز ایجنسی نے جنوری سنہ 2021 میں لکھا تھا کہ حماس کو 95 فیصد سے زیادہ فنڈنگ حکومتوں، اخوان المسلمون کے سرمایہ کاروں، عوام اور پوری دنیا میں فلسطین کے حامیوں سے ملتی ہے۔

حماس کی حمایت کرنے والی سب سے اہم غیر سرکاری تنظیموں میں الانصار جیسی فلاحی تنظیمیں شامل ہیں۔

’الانصار‘ اسلامی جہاد سے متعلق ایک گروپ ہے جو سنہ 2001 میں قائم ہوا اور فلسطین کے علاقوں بالخصوص غزہ اور مغربی کنارے میں جاری خیراتی کاموں میں سرگرم ہے۔

’الانصار‘ کے ’شہدا فاؤنڈیشن‘ اور ’ایرانی امور شہداء‘ کے درمیان قریبی تعلق ہے۔

سنہ 2016 میں العالم ٹی وی چینل نے اسلامی جمہوریہ ایران کے رہنما کی جانب سے ایران کو مسلسل مالی امداد بھیجنے پر الانصار چیریٹی ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین ناصر الشیخ علی کا شکریہ ادا کیا تھا۔

مئی 2018 میں المانیٹر نے بھی سامی ابو ایاز کے حوالے سے لکھا: ’مجموعی طور پر ایران فلسطینیوں کے 9000 خاندانوں کو مالی امداد دیتا ہے، جن میں سے تقریباً غزہ میں 7000 خاندان اور مغربی کنارے میں دو ہزار خاندان مقیم ہیں۔ ایران ہر تین ماہ بعد ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرتا ہے۔‘

الانصار نے جولائی 2017 میں اپنے فیس بک پیج پر اسلامی جمہوریہ ایران کو دیے جانے والے مالی وسائل کی تقسیم کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کیا تھا۔ اس کے مطابق ہلاک ہونے والے شادی شدہ افراد کے خاندانوں کو 600 ڈالر کے برابر رقم ملی ہے جبکہ مرنے والے کے خاندانوں کو کم از کم 300 ڈالر کے برابر کی رقم موصول ہوئی ہے۔

حماس

سرمایہ کاری کے ذریعے فنڈنگ

حماس کی مالی سرگرمیوں کے اہم پورٹلز میں سے ایک کرپٹو کرنسی کی دنیا ہے۔

اپنی خفیہ نوعیت کی وجہ سے کرپٹو کرنسی مارکٹ اور بلاک چین جیسی جگہوں کو حماس جیسے گروپوں کے کام کرنے کے لیے موزوں جگہ سمجھا جاتا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حماس نے گذشتہ سات سالوں میں کرپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری سے تقریباً 41 ملین ڈالر کمائے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حماس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے دنیا سے لاکھوں ڈالر کی مالی امداد بھی جمع کی۔

ان اطلاعات کے بعد ہی امریکی کانگریس کے کرپٹو دھڑے نے حماس کی سرگرمیوں کے لیے سخت قوانین بنانے کے لیے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

بلاک چین کی ترقی پر نظر رکھنے والی ریسرچ کمپنی ایلپٹک کے شریک بانی ایٹم رابنسن نے حال ہی میں کہا کہ حماس ‘دہشت گردی’ کی مالی اعانت کے لیے کرپٹو کرنسی کے سب سے کامیاب صارفین میں سے ایک رہی ہے۔

اسی نوعیت کی ایک دوسری کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے بھی کہا ہے کہ حماس نے صرف 2021 میں 400,000 ڈالر سے زیادہ کرپٹو کرنسی امداد جمع کی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران حماس کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی امداد فراہم کرتا ہے۔

دریں اثنا حالیہ مہینوں میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں حماس کے لین دین کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حماس

اسرائیل کے کاؤنٹر ٹیررازم فنانسنگ آفس نے رواں سال جولائی میں اطلاع دی تھی کہ اس نے حماس کی فنڈ ریزنگ مہم کے سلسلے میں متعدد ورچوئل کرنسی بٹوے ضبط کیے ہیں، جن میں سے کچھ کا تعلق حماس کی ذیلی شاخ عزالدین قسام بریگیڈز سے تھا۔

بیورو نے تصدیق کی ہے کہ ضبط شدہ ویلے یا بٹوے کے پتے میں سے ایک نقد خریداری اور رقم کی منتقلی کرنے والی کمپنی کا ہے۔

یہ تمام جمع شدہ رقم حماس خرچ نہیں کرتی بلکہ اس کے ایک اہم حصہ کو مختلف ممالک میں پیسہ کمانے کے لیے لگایا جاتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران سے ملنے والے فنڈز کو حماس مختلف ممالک میں سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں رکھتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ان سرمایہ کاری کے محکموں کی مالیت کروڑوں ڈالر ہے اور یہ سوڈان، الجزائر، ترکی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں کام کرتے ہیں۔

حماس کے پورٹ فولیو میں شامل کمپنیاں جائز کاروبار کی آڑ میں کام کرتی ہیں اور ان کے نمائندوں نے اپنے اثاثوں پر حماس کے کنٹرول کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری کے نیٹ ورک کی نگرانی حماس کی اعلیٰ ترین قیادت کرتی ہے اور ان سرمایہ کاری کے محکموں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مدد سے حماس کے رہنما پرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔ اور یہ کہ یہ سرمایہ کاری غزہ پٹی میں سرمایہ کی پیداوار اور جمع کرنے کے لیے نہیں ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.