Mashriq Newspaper

آئی ایم ایف پروگرام کوئی حلوہ یا کھیر نہیں ہے یہ بہت سخت شرائط ہیں، وزیراعظم

ملتان: وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی شرائط سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کا پروگرام کوئی حلوہ یا کھیر نہیں ہے یہ بہت سخت شرائط ہیں جنہیں ہم نے ملک میں استحکام کی خاطر برداشت کیا۔

ملتان میں زیر تعمیر ہسپتالوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں موقع دیا تو یہ ایک 1لاکھ لیپ ٹاپ نہیں ہم 5 برس میں 50 لاکھ لیپ ٹاپ دیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میرٹ وہ اثاثہ ہے جس سے قومیں بنتی ہیں اور جو قومیں میرٹ سے ہٹ جاتی ہیں سفارش کرپشن اقربا پروری اور دوسری خرافات جب مل جائیں تو وہ قومیں تباہ ہوجاتی ہیں لیکن جو قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے آگے بڑھتی ہیں ان کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہسپتال ابھی زیر تکمیل ہے وزٹ کے دوران مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ 30 ستمبر کو یہ اپنی تکمیل کے مراحل طے کرلے گا یہ عوامی خدمت کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور دکھی انسانیت کیلیے ایک خوشی کا پیغام ہے.

’پچھلی حکومت نے چور ڈاکو کی گردان کے سوا کوئی کام نہ کیا‘

علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت نے چور ڈاکو کی گردان کے سوا کوئی کام نہ کیا۔

وزیرِاعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ چیئرمین پی ٹی آئی کو کندھوں پر بٹھا کر لائے تھے، وہ ان کی حکومت سے یہ اسپتال مکمل کرواتے، مگر اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے، اب یہ اسپتال انشاءاللہ 30 ستمبر کو پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے 4 سال اسپتال کو فنڈز جاری نہ کرکے بربادی کی، گزشتہ 4 سال شدید غفلت برتی گئی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، دکھی انسانیت اسپتال کی تکمیل کے انتظار میں تھی لیکن پچھلی حکومت نے اسپتالوں کو بھی فنڈز جاری نہ کیے، پی ٹی آئی حکومت میں انتقامی سیاست کی وجہ سے انسانی خدمت کو روکا گیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لوگ علاج نہ ملنے سے قبر میں جارہے ہوں اور یہاں سیاست ہورہی ہے، اس سے زیادہ قبیح حرکت نہیں ہوسکتی، چیئرمین پی ٹی آئی کی حکومت میں ہوتے ہوئے چور ڈاکو کی گردان ختم نہیں ہوتی تھی، ان کے پاس کھربوں روپے تھے، لیکن ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے رکھے، انہیں اس سے وقت ملتا تو اسپتال بناتے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.