Mashriq Newspaper

یوکرین میں اہداف کے حصول تک امن ممکن نہیں ہوسکتا، روسی صدر

 روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ یوکرین میں روسی اہداف کے حصول تک امن ممکن نہیں ہوسکتا۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ولادیمیر پوتن نے نیوز کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے کہا  کہ جب تک یوکرین  میں روسی اہداف حاصل نہیں ہوجاتے، اس وقت تک امن ممکن نہیں ہوگا۔

فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد  سے  روسی صدر کی یہ سال کے اختتام پر پہلی نیوز کانفرنس تھی۔ روسی اہداف سے  متعلق صحافیوں کے سوال پر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ یوکرین کو نازی ازم سے پاک کرنے اور فوجی قوت میں کمی کرکے اسے غیرجانبدار ریاست بنائے جانے تک امن ممکن نہیں ہوسکتا۔

روس یہ الزام عائد  کرتا ہے کہ یوکرینی حکومت  کٹر قوم پرستوں اور نیو نازی  گروپوں کے بہت زیادہ زیراثر ہے۔ یوکرین اور اس کے مغربی  اتحادی و حامی ممالک اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

ولادیمیر پوتن یہ مطالبہ بھی  دہراتے رہے ہیں کہ یوکرین غیرجانبدار رہے اور ناٹو عسکری اتحاد میں شمولیت اختیار نہ کرے۔

پریس کانفرنس کے دوران روسی صدر نے کہا  کہ جہاں تک ( یوکرین کی) فوجی طاقت میں کمی کا تعلق ہے تو وہ اس پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں، چنانچہ ہم دیگر اقدامات بشمول فوجی اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یا تو ہم اس ( مطالبے ) پر راضی ہوجاتے یا پھر یہ ( معاملہ ) ہمیں طاقت کے ذریعے حل کرنا تھا۔

روسی صدر نے بتایا کہ اس وقت یوکرین  کی سرزمین پر موجود روسی فوجیوں کی تعداد 617000  ہے، ان میں 244000  ریزرو اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 486000  روسی شہری رضاکارانہ طور پر جنگ میں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ برس کے اختتام پر روسی صدر نے نیوز کانفرنس کا انعقاد نہیں کیا تھا تاہم  جمعرات کو انہوں نے سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب وہ مارچ 2024 میں پانچویں بار صدارتی انتخاب لڑنے جارہے ہیں۔

71  سالہ  روسی رہنما کی صدارتی انتخابات میں کامیابی تقریباً یقینی ہے۔ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہ 2030 تک  عہدہ صدارت پر براجمان رہیں گے۔

یوکرین کے ساتھ جاری  جنگ کے تناظر میں مغرب کے ساتھ تعلقات پر لب کشائی کرتے ہوئے ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ( مغرب کی) ہماری سرحدوں کی جانب  بڑھنے کی بے لگام خواہش، اور یوکرین کو ناٹو میں شامل کرنے کی کوشش نے اس صورتحال کو جنم دیاہے…. انہوں نے ہمیں فوجی اقدامات کرنے پر مجبور کیا۔

چین کے ساتھ تعلقات کے سوال پر روسی صدر کا کہنا تھا  کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات تاریخ کی مضبوط ترین سطح پر ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.