Mashriq Newspaper

عرب ممالک کا سربراہی اجلاس، فلسطین میں جارحیت فوری روکنے کا مطالبہ

 بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو سالانہ عرب سربراہی اجلاس کا آغاز ہوگیا، جس میں غزہ جنگ بندی اور فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس اجلاس  کا بنیادی ایجنڈا غزہ کی صورت حال ہے اس کے علاوہ عرب ممالک کو درپیش مسائل کے حوالے سے بھی غور کیا جائے گا۔

یہ سربراہی اجلاس غزہ میں کئی ماہ سے مسلسل جاری جارحیت کے خلاف منعقد کیا جارہا ہے جس میں اب تک 35 ہزار سے زائد افراد شہید اور 79 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

اجلاس میں بحرین، قطر، مصر، اردن اور عراق کے سربراہان سمیت 13 عرب رہنما شریک ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے نائب صدر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد بھی اجلاس میں شریک ہیں۔   منامہ کو پہلی بار سربراہی اجلاس کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہوا ہے۔

اجلاس کے آغاز پر تمام ممالک کے ذمہ داران نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی دنیا سے فلسطینیوں کی مدد اور بحالی کا مطالبہ کیا۔

بحرین نے مشرق وسطی میں قیام امن کیلیے بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ جبکہ کانفرنس کے آغاز پر اپنے ابتدائیہ کلمات میں نے کہا کہ عالمی برادری غزہ  جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کرے اور  فلسطینیوں کے خلاف جاری جاحیت کو فوری روکا جائے۔

سعودی ولی عہد نے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کا حوالہ دیا اور ان کی فوری روک تھام کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ  سربراہی اجلاس جنگوں کے پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے درمیان منعقد کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے خطے میں جنگوں کے خاتمے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مشترکہ اور فوری عرب اور بین الاقوامی موقف اپنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اجلاس میں شریک فلسطینی صدر محمود عباس نے  عالمی برادری اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دو ریاستی حل کو فوری طور پر نافذ کروانے پر زور دیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.