Mashriq Newspaper

ملک کو غیر جمہوری طرز عمل سے چلانے کے نتیجے میں حالات خراب ہوئے، لشکری رئیسانی

کوئٹہ( پ ر )بلوچستان گرینڈ الائنس کے سربراہ و قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 263 سے امیدوار نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ ملک کو غیر جمہوری طرز عمل سے چلانے کے نتیجے میں حالات خراب ہوئے ،جمہوری نظام کو شفاف طریقے سے آگے بڑھا کر ملک کو داخلی و خارجی پالیسیوں کے ذریعے بحرانوں سے نکالا جائے، سینیٹ میں امن و امان کو جواز بناکر 8 فروری کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرانے کی قرارداد منظور کرنے والے چور دروازے سے آئندہ پانچ سال بھی گزارنا چاہتے ہیں،ہم سیاسی و شعوری جدوجہد کو عوام کی طاقت کے ذریعے اگے بڑھانا چاہتے ہیں اس لیے عوام کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں تاکہ عوام کے ووٹ کے ذریعے اس ملک اور سماج کو بحرانوں سے نکالا جاسکے۔ یہ بات انہوں نے حاجی فتح خان روڈ ، قریشی محلہ ، سید اسٹریٹ اور ساک اکیڈمی پٹیل روڈ پر انتخابی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، اجتماعات سے بلوچستان گرینڈ الائنس کے رہنما رضاالرحمن ، حاجی محمد افتاب عالم ، محمد سلیم فریدی صراف ، الحاج محمد ابرار ، محمد اعجاز ، عبدالقیوم شاہوانی ، عنایت لہڑی ، حیدر لہڑی و دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر محمد سلیم فریدی صراف ، حاجی محمد افتاب عالم ، الحاج محمد ابرار ، محمد اعجاز ، سید حاجی زمان ، سردار جبار خان خلجی ، حاجی غفار ، محمد عفان ، جہانزیب خان ، حسین محمد حسنی ، امین اچکزئی ، شہباز خان مندوخیل ، محمود خان مندوخیل سمیت سینکڑوں افراد نے قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی اور بلوچستان گرینڈ الائنس کے نامزد و حمایت یافتہ امیداروں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ شہر کے لوگ اپنے ووٹ اور رائے کی اہمیت کو سمجھ کر آٹھ فروری کو اپنی رائے آئندہ نسلوں کے مفاد میں استعمال کرکے گزرے نظام، سیاسی جماعت اور شخصیات کا احتساب کرکے آئندہ نسلوں کی بقاءکا انتخاب کریں، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے پاس منشور نہیں ایک دوسرے کی کردار کشی کررہے ہیںکیوں ان کا ہدف اقتدار تک پہنچنا ہے جس کے نتیجے میں ملک بحرانوں سے دوچار ہے،انہوںنے کہاکہ پارلیمان کاکام آئندہ نسلوں کیلئے پالیسیاں تشکیل دینا ہے مگر یہاں پالیسی ساز ادارہ کو بلدیاتی ادارہ کی طرز پر چلاکر نالیاں بنائی جاتی ہیں، انہوںنے کہاکہ گزشتہ دنوںسینیٹ میں امن وامان کو جواز بناکر آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کو ملتوی کرنے کیلئے ایک قرار داد پاس کی گئی اور جن چودہ لوگوں نے یہ قرار داد پاس کی وہ خود چور دروازے سے وہاں تک پہنچے ہیں اور چور دروازے سے آئندہ پانچ سال بھی گزارنا چاہتے ہیںانہوں نے کہاکہ ملک کو ایک غیر جمہوری طریقے سے چلایا گیا جس کا خمیازہ آج لوگ بھگت رہے ہیںیہ کوشش ہونی چائیے کہ جمہوری نظام کو شفاف طریقے سے آگئے بڑھایا جائے تاکہ اس ملک کو داخلی و خارجی پالیسیوں کے ذریعے بحرانوں سے نکالا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنی سیاسی و شعوری جدوجہد کو عوام کی طاقت کے ذریعے اگئے بڑھانا چاہتا ہوںاس لیے عوام کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہوں تاکہ عوام کے ووٹ کے ذریعے اس ملک اور سماج کو بحرانوں سے نکالا جائے۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ آٹھ فروری کو کوئٹہ کے لوگ اپنی رائے اس جمہوری نظام کیلئے دیں جو قوموں کی زندگیاں تبدیل کرکے آئندہ نسلوں کے بقاءکیلئے پالیسیاں تشکیل دے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اور آپ ایک ایسے پارلیمانی نظام کیلئے اپنی رائے دیں تاکہ میں پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام اور پارلیمان کے درمیان پل کا کردار ادا کروں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کوئٹہ شہر کے لوگ اپنے ووٹ کو سوچ سمجھ کر ایک ایسے سیاسی مقصد کیلئے آٹھ فروری کو استعمال کریں گے جو وزارت سے بالا تر ہوکر پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرکے ریاست اور صوبے میں ڈائیلاگ کا آغاز کریگا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.