Mashriq Newspaper

ایران کے سپریم لیڈر نے محمد مخبر کو نیا سربراہ مقرر کردیا

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے محمد مخبرکو حکومت کا نیا سربراہ مقرر کردیا۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر 19 مئی کو آذربائیجان کی سرحد پر ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آتے ہوئے موسم کی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں ایرانی صدر، وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان و دیگر حکام جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایرانی حکام نے آج (20مئی) صبح ایرانی صدر اور وزیر خارجہ سمیت دیگر کی موت کی تصدیق کردی ہے۔

تاہم اب ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد صدارت کا اہم عہدہ خالی ہوگیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے نائب صدر محمد مخبر کو ایرانی حکومت کا عارضی سربراہ مقرر کردیا ہے۔

محمد مخبر 50 روز کے اندر نئے انتخابات کروانے کے پابند ہیں۔

ایرانی آئین کے مطابق اب نائب صدر محمد مخبر صدارتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

ایران کے آئین کے آرٹیکل 131 کے مطابق اگر کوئی صدر اپنے دورِ اقتدار کے دوران نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر انتقال کر جاتا ہے تو سپریم لیڈر کی جانب سے تمام تر صورتحال کی تصدیق ہونے کے بعد نائب صدر اقتدار سنبھالتا ہے۔

بعد ازاں نائب صدر، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عدلیہ کے سربراہ پر مشتمل ایک کونسل کو 50 دنوں کے اندر نئے صدر کا انتخاب کروانا ہوتا ہے۔

نائب صدر محمد مخبر کون ہیں؟

68 سالہ محمد مخبر ابراہیم رئیسی کی طرح سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔

1955 میں پیدا ہونے والے محمد مخبر ایرانی مصالحت کونسل کے رکن بھی ہیں۔

ابراہیم رئیسی نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اگست 2021 میں محمد مخبر کو اپنا پہلا نائب صدر مقرر کیا تھا۔

محمد مخبر ایرانی حکام کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے اکتوبر2023 میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روس کی فوج کو میزائل اور مزید ڈرون فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس ٹیم میں ایران کے پاسداران انقلاب کے دو سینئر اہلکار اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ایک اہلکار بھی شامل تھے۔

اس سے قبل محمد مخبر سپریم لیڈر سے وابستہ سرمایہ کاری فنڈ سیتاد کے سربراہ رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ وہ سینا بینک کے بورڈ چیئرمین اور صوبہ خوزستان کے ڈپٹی گورنر ہیں۔

2013 میں امریکی محکمہ خزانہ نے سیتاد اور اس کے زیر انتظام 37 کمپنیوں کو پابندی کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

نائب ایرانی صدر کے پاس دو ڈاکٹریٹ ڈگریاں ہیں جن میں بین الاقوامی حقوق میں ڈاکٹریٹ کا تعلیمی مقالہ بھی شامل ہے، انہوں نے مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.