Mashriq Newspaper

جاپان میں ریکونز نے تباہی مچادی

جاپان میں ریکون کی بڑھتی آبادی نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے جس کی وجہ سے ماحولیات اور معیشت کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

جاپانی نیوز کے مطابق، ٹوکیو کی حکومت نے کہا کہ 2022 کے دوران صرف ٹوکیو سے ہی تقریباً 1,300 ریکون پکڑے گئے ہیں. یہ تعداد 10 سال قبل پکڑی جانے والی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح جاپانی حکومت نے ریکون کو درانداز جانور کے طور پر قرار دیا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت اور اس حوالے سے سخت اقدامات کیے جانے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ ریکون جاپان کا مقامی جانور نہیں ہے۔ 1977  میں ایک جاپانی کارٹون مشہور ہوا تھا جس کا نام ’Rascal the Raccon‘ تھا۔ اس کی مقبولیت کے بعد 1970 کی دہائی میں انہیں درآمد کیا جانے لگا۔

یہ کارٹون اتنا مقبول تھا کہ جاپانی عوام دوسرے ممالک سے اسے آرڈر کرتے تھے اور انہیں پالتو جانور کے طور پر اپنے گھروں جگہ دیتے تھے۔ تاہم کچھ ہی عرصے میں ریکون نے اپنی ضدی اور شیطانی حرکتوں کی وجہ سے شہریوں کی ناک میں دم کردیا اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچانے لگے۔

جب جاپانی حکومت کو اس خطرے کا احساس ہوا تو حکومت نے کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ ریکون کی آبادی میں اضافہ پریشان کُن صورت اختیار کرچکا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق املاک اور ماحولیات کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ ریکون نے ملک کی زرعی صنعت کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ 2022 میں ریکون نے فصلوں کو تقریباً 30 لاکھ ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.