Mashriq Newspaper

2018 میں دھاندلی کا شور مچانے والے پی ٹی آئی سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، فضل الرحمان

جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے خلاف کھڑے ہونے والے آج اُسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

کبیر اسٹیڈیم لکی مروت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر پارٹیوں نے لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور ایک مخصوص طبقے کا پیٹ بھراجا رہا ہے، ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیاں ہیں لیکن جمعیت نے ناجائز کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اس نتیجے میں حکومت آئی اور وہ لوگ جو دھاندلی کے خلاف ہمارے ساتھ کھڑے تھے آج وہی لوگ اسی دھاندلی والی پارٹی کا ٹکٹ لے کر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، ووٹ کی پرچی ایک آسان ترین جہادی فورم اور نظریاتی جنگ ہے مگر اس میں بھی ہم ادھر ادھر ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری اسمبلیاں ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہیں جو قرآن و حدیث سے متصادم بل پاس کرتے ہیں، اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ اسلامی قوانین سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے غلط قانون پاس کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ہم نے امریکا اور یورپ جیسی بڑی طاقتوں کے سامنے حق کی آواز بلند کی، کچھ ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں امریکا کے کہنے پر ہم سے کرسی چھینی گئی بعد میں کہتے ہیں کہ امریکا نہیں ہمارے ساتھ کچھ نہیں کیا، جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو اس وقت سڑکوں پر سوائے جمعیت علماء اسلام کے کوئی پارٹی نظر نہیں آتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان ایک اچھے پڑوسی کی مانند ہوں،  اسرائیل ایک ناسور ہے جو فلسطین کی زمین پر زبردستی قابض ہے، اگر آپ دہشت گرد ملک سے واسطہ رکھیں گے تو لوگ آپ کو بھی دہشت گرد کہیں گے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فلسطین میں عام لوگوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں اور ان سب کے باوجود امریکا اور مغربی طاقتیں ہمیں انسانی حقوق کا درس دیتی ہیں، ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر حماس کی قیادت سے ملاقات کی اور دنیا کو بتایا کہ یہودی کے مقابلے میں ہم مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو کوئی ناراض نہیں کرنا چاہتا اور فلسطین کے حق میں کوئی بول نہیں رہا، جو ہمارے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں کیا ان میں جرات ہے کہ وہ مسلمان بھائی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے؟ یہاں تو یہودیوں کی حمایت یافتہ سیاسی پارٹیاں بنی ہیں، یہودیوں کے ایجنٹ بن کر سیاست میں آئے ہیں تو یہودیوں کے ایجنٹ کا مقابلہ پہلے دن سے ہم نے کیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.