Mashriq Newspaper

چمن کو تجارتی حب کا درجہ دے کر سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کرینگے،جان اچکزئی

کوئٹہ ( ایریا رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے کہاہے کہ چمن کو تجارتی حب کا درجہ دے کر سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کرینگے جہاں ویش منڈی اور ٹیکسز کے دفاتر موجود ہوں ، دیگر ممالک سے سامان ٹائر اور دیگر قیمتی سامان آکر یہاں پر ری پیکیج ہو کر ان پر ٹیکسسز ڈال کر دیگر ممالک میں بھیجا جا سکے ، پاکستان کا کاروبار ڈالر پر ہوتا ہے مگر چمن پاکستا ن سے ڈالر کی سمگلنگ افغانستان ، سعودیہ ،ایران سمیت دیگر ممالک میں سمگل ہو رہے ہیں ،ریاست پاکستان کے اقتصادی مستقبل خطرہ میں ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوںنے اپنے دفتر میں مشرق سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے بتایا کہ سمگلنگ کی معیشت پاکستان نے نہیں چھوڑنا ہے ،چمن میں ویش باڈر کیساتھ دفاتر ہونگے جہاں ویر ہاوسز اور سہولیات ہونگے پاکستان اور افغانستان دونوں کو قانونی تجارت کا درجہ دے کر دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ، چمن بارڈر پر روز مرہ اربوں روپے کے ریاست پاکستان کا نقصان ہوتا ہے ، ایسا اقدامات نہ کئے تو پاکستان کو دوالیہ سے کوئی مائی کا لعل نہیں بچایا جا سکتا ، فیصلہ کرلیا ہے کہ سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کرینگے۔انہوںنے کہاکہ چمن تجارتی حب بنے گا، تجارتی سامان سمگلنگ سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان ہوتاہے ، اس خسارے کے تدارک کیلئے ریاست پاکستان نے فیصلہ کرلیا ہے ، سمگلنگ ہونے والی اشیاءیوریا، کھاد، ٹائرجو ریاست پاکستان نے اس پر پابندی عائد کیا ہے یہ کوئی تجارت نہیں ہوسکتا ، یہ سمگلنگ ہے یہ پاکستان کے قانون کیخلاف عمل ہے ، پاکستان کو دوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے ہمارا پاس سمگلنگ کی روک تھام کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ، خدا نخواستہ یہ اقدامات نہ کئے تو ہمارا حشر بھی اسٹریلیا، کی طرح ہوگا، یہاں 15ہزار سے زائد ہونڈی والی کاروبار کرنے لگے ہیں، پاکستان کا کروبار ڈالر میں ہورہاہے ، لیکن ڈالر یہاں سے سمگلنگ ہورہاتھا ایران ، سعودیہ ، افغانستان جا رہے تھے ، اور پاکستان کے پاس کوئی ڈالر نہیں بچتا ، ریاست کے اقتصادی مستقبل خطرہ میں ہو تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں نہیں بچھتا، افغانستان کیساتھ بلوچستان کے بارڈر کی اگر بات کی جائے تو اچکزئی بیلٹ 150کلو میٹر ہے ، تو یہ دیوبندی سے توبہ اچکزئی تک اس میں دو راستے ہیں ایک راستہ مین روڈ چمن ٹو پنجاب دوسرا راستہ توبہ اچکزئی جو غیر قانونی طورپر ملک میں داخل ہوتے ہیں جو انٹر بارڈر صوبوں کیساتھ ہیں، ، مین ہائی وے پنجاب کیساتھ گیارہ چیک پوسٹ بنی ہیں، جن میں تقریباً7چیک پوسٹ میں زیادہ مختلف ڈیپارٹمنٹ کے لوگ موجود ہیں، ایگریکلچر ، کسٹم اور دیگر شامل ہیں ، ہمارا مقصد چمن کو دنیا کا حب بنانا ہے ، جہاں دیگر ممالک کے چیزیں آئے اس میں ری پیکیج کرکے میڈین پاکستان لکھے ، چمن میں ویئر ہاوسسز بنیں اور قانونی تجارت کو فروغ مل سکے،سمگلنگ کی معیشت پاکستان نے نہیں چھوڑنا ہے ۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.