Mashriq Newspaper

ذمہ داران کا کوئٹہ میں سکونت کے باوجودشہر میں مسائل کے انبار سوالیہ نشان ہے ،خوشحال کاکڑ

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ حکمرانی کے ناقص نظام اور ماضی میں منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی ،مسائل سے چشم پوشی اور اعلیٰ حکومتی حکام کی خوشنودی کیلئے مصلحت پسندی کے علاوہ وزیروں، بیوروکریسی اور حکومتی اداروں کے ذمہ داران کا کوئٹہ میں سکونت کے باوجودشہر میں مسائل کے انبار ان کی مجموعی کارکردگی پر سوالیہ نشان اور شرمندگی کا باعث ہے، کافی عرصہ گزرنے کے باوجودسیلابوں کی وجہ سے تباہ شدہ علاقے بحالی کیلئےتاحال حکومتی اقدامات کی منتظر ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوا کلی، ہنہ اوڑک اور سرہ غڑگی میں انتخابی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے حالات دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ صوبائی دارالحکومت ہےاور حکومتی ادارے وجود بھی رکھتے ہیں؟ صفائی ستھرائی کا ناقص نظام، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور نالیاں، پینے کے صاف پانی کی قلت، نکاسی آب کا فرسودہ نظام، ٹریفک کی بدنظمی اور ہر جگہ گندگی اور کچرے کے ڈھیر اس بات کے واضح علامات ہے کہ اس شہر کاکوئی والی وارث نہیں۔ کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہیں تعلیم اور صحت کی غیر معیاری سہولیات، بجلی اور گیس کی طویل لوڈشیڈنگ، موبائل کمپنیوں کے کمزور سگنلز اور انٹرنیٹ، چوری اور ڈکیتی کے پے در پے واقعات اور دیگر مسائل کی وجہ سے عوام حکومتی اداروں سے یکسر ناا±مید ہو گئے ہیں جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کو مزید لاوارث نہیں چھوڑا جائیگا بلکہ اس کی مربوط اور پائیدار ترقی کیلئے بہتر منصوبہ بندی کی جائیگی اورتمام وسائل و سرکاری اداروں کو متحرک کر کے شہریوں کو ایک خوشگوار تبدیلی کا تحفہ دیا جائیگا جس کیلئے بلدیاتی اداروں کی فعالیت اور درکار وسائل کی فراہمی اشد ضروری ہے اور پارٹی اس مقصد کیلئے قانون سازی کے ساتھ ساتھ بھرپور کردار ادا کریگی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے نمائندگان اگر علاقے اور عوام کی حقوق کیلئے توانا آواز ا±ٹھاتے تو آج سیلابوں سے متاثرہ ہنہ اوڑک اور دیگر علاقوں میں بحالی کے کام کب کے مکمل ہو چکے ہوتےلیکن افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ سیاحت کیلئے مشہور اس وادی کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے جس میں سرکاری اداروں کے علاوہ منتخب نمائندے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ پشتونخوانیپ کے نامزد ا±میدواران کامیابی کی صورت میں ا±ن کی ا±میدوں پر پورا ا±ترکر ا±ن کو کبھی بھی مایوس نہیں کرینگے اور عوام کے تمام بنیادی حقوق کیلئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور آواز بلند کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوانیپ کی سیاست کا مقصد پشتون سمیت محکوم اقوام کو غلامی سے نجات اور مظلوم عوام کو ہر قسم کی جبر اور زیادتی سے تحفظ فراہم اور ہر قسم کی دہشتگردی اور خصوصاً ریاستی دہشتگردی کا خاتمہ کر کے پ±رامن بقائے باہمی کیلئے جدوجہد کرنا ہےاورساتھ ہی جبری گمشدگیوں کے خاتمے، لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی، ٹارگٹ کلنگ اور مسخ شدہ لاشوں کو پھینکنے کے غیر انسانی عمل کا فوری خاتمہ ملکی بقائ کیلئے اشد ضروری ہے اگر ان مسائل پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو قوموں کےدرمیان بد اعتمادی مزید بڑے گی اور فیڈریشن کوسخت نقصان ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری اسٹبلشمنٹ اور دیگر ریاستی اداروں پر عائد ہوگی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.